شوپیان ہلاکتیں :وادی میں ہڑتال اور سرکاری پابندیوں سے زندگی مفلوج

سرینگر :اتوار کی شب پہنو شوپیان نامی گاﺅں میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ میں چار عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی احتجاجی ہڑتال کال کے نتیجے میں شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں معمولات ِزندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔

ہڑتال کے نتیجے میں شہر سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک سمیت پوری وادی میں دکانات ،کاروباری ادارے تجارتی مراکز ،بینک ،پیٹرول پمپ ،تمام سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک اور سرکاری ٹرانسپورٹ مکمل طور پر غائب رہا ۔ہڑتال کے باعث شمال وجنوب میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔

ہڑتال کی کال مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی ۔یہ کال شوپیان میں رات کی تاریکی میں 4نوجوانوں اور دو ممکنہ جنگجوﺅں کی ہلاکت کے خلاف دی تھی ۔

یاد رہے کہ فوج کے ایک ترجمان نے فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگجوﺅں نے فوج کے ایک مو بائیل چیک پوسٹ پر مسلح حملہ کیا جس دوران جوابی کارروائی میں ایک جنگجو اور تین بالائی زمین ورکر ازجان ہوئے ۔

تاہم پیر کی صبح فائرنگ کے واقعہ کے جائے وقوع سے مزید دو نوجوانوں کی نعشیں برآمد ہوئیں ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ اِن میں سے ایک نوجوان کی نعش جنگجو کی ہے. پولیس ترجمان نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن ہر پورہ شوپیان کے حدود میں آنے والے سید پورہ علاقے  سے عاشق حسین بٹ ساکنہ رکھ کپرن نامی لشکر طیبہ جنگجو کی نعش برآمد کی گئی جو کہ13نومبر 2017سے لاپتہ تھا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ مہلوک جنگجو اتوار کی شب فائرنگ کے واقعہ کا حصہ ہے ۔تاہم مزید تحقیقات جاری ہے ۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ پہنو شوپیان نامی گاﺅں میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ کے مقام سے ایک اورنوجوان کی نعش برآمد ہوئی جسکی شناخت گوہر احمد لون ساکنہ چھتر گام شوپیان کے بطور ہوئی جبکہ تحقیقات جاری ہے ۔

ادھر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر سرینگر کے سات پولیس تھانہ کے تحت آنے والے علاقوں میں کوفیو جیسی پابندیاں اور بند شیں عائد کردیں ۔لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں عائد کی گئیں اور پوری وادی میں دفعہ144کے تحت حکم امتناعی نافذ کیا گیا ۔ریل اور تیز رفتار والی انٹر نیٹ خد مات بھی معطل رکھی گئیں ۔مزاحمتی قیادت کے خلاف کریک ڈاﺅ ن بھی شروع کیا گیا ،جس کے تحت لالچوک میں احتجاج کے دوران لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو حراست میں لیا گیا ۔

یاد رہے کہ پیر سے پوری وادی میں تین ماہ کی سرمائی تعطیلات کے بعد نیا تعلیمی سیشن شروع ہونا والا تھا ،تاہم شوپیان ہلاکتوں کے بعد انتظامیہ نے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ اسکول ،کالج اوریونیورسٹی سطح کے تمام امتحانات کو بھی ملتوی کیا گیا ۔

دریں اثناءوادی بھر میں شہری ہلاکتوں پرغم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اور شمال وجنوب میں کئی مقامات سے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات مل رہی ہیں ۔ پوری وادی میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مبینہ کراس فائرنگ کے واقعے میں شہری ہلاکتوں پر رنج وغم کا اظہار کیا ۔

Comments are closed.