سانحہ کٹھوعہ کومذہبی رنگ دینے کی کوشش تشویشناک:محبوبہ مفتی

جموں: وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے”سانحہ کٹھوعہ کومذہبی رنگ دینے کی کوشش پرتشویش اورناپسندیدگی“ظاہرکرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ کچھ قوتیں صوبہ جموں میں مذہبی بھائی چارے کوزک پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔انہوں نے جموں کومذہبی رواداری کی علامت قراردیتے ہوئے واضح کیاکہ امن اوربھائی چارہ اس شہراورصوبے میں ترقی وخوشحالی کی ضمانت رہاہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا’ گرچہ جموں وکشمیرنے بھارت کیساتھ الحاق کرکے اپنی سیاسی تقدیرکافیصلہ کیاہے‘تاہم انہوں نے منقسم ریاست کے آرپارسبھی راستوں کی کھولنے کی پھروکالت کرتے ہوئے کہاکہ سماجی و اقتصادی خوشحالی اورتیزترقی کی خاطر جموں وکشمیرکوآواجاہی اورٹریڈکیلئے بیرون دنیاکیساتھ جوڑناپڑے گا۔ محبوبہ مفتی نے مذکرات کوبحالی امن کی کنجی سے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ سبھی متعلقین کیساتھ بات چیت کرکے قیام امن اوربے روزگاری کے مسئلے کوحل کیاجاسکتاہے۔کشمیر نیوزسروس نمائندے کے مطابق کٹھوعہ کی آٹھ سالہ بچی آصفہ کی آبروریزی اورقتل کے کیس کوریاستی پولیس کی کرائم برانچ کے سپردکئے جانے کے معاملے اوراس حساس کیس کوسی بی آئی کے سپردکئے جانے کی مانگ کولیکرریاست میں برسراقتدارمخلوط سرکارمیں شامل اتحادی جماعتوں پی ڈی پی اوربی جے پی کے درمیان پیداہوئی چپقلش کے بیچ ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوارکے روزدبے الفاظ میںسانحہ کٹھوعہ کومذہبی رنگ دینے پرسخت تشویش کااظہارکیا۔وزیراعلیٰ نے جموں میں منعقدہ پی ڈی پی کی یوتھ ونگ کے زیراہتمام ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جموں واسیوں کوخبردارکیاکہ وہ فرقہ پرست اورمذہب کی بنیادپرسماج کوتقسیم کرنے والی قوتیں سے خبرداررہیں ۔انہوں نے کہاکہ کچھ قوتیں جموں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورمذہبی بھائی چارے کونقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔وزیراعلیٰ نے جموں کے لوگوں کوکشمیروادی اورکشمیریوں کودرپیش مشکلات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ امن وامان کی صورتحال بگڑجانے کے بعدکشمیرمیں تعمیروترقی کاعمل رُ ک گیا،اوروہاں ہرسطح پربے روزگاری بڑھ گئی ۔انہوں نے کہاکہ آج اگرکشمیرمیں بے روزگاری زیادہ ہے اوروہاں اقتصادی وکاروباری سرگرمیاںبھی کم ہیں تویہ اُس بدامنی یاشورش کانتیجہ ہے جووہاں پچھلی لگ بھگ تین دہائیوں سے چلی آرہی ہے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ جب تقسیم ہندکے بعدپورابرصغیرفرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھلس رہاتھاتواُس وقت گاندھی جی کوصرف کشمیرمیں اُمیدکی کرن نظرآئی تھی ،اوربقول محبوبہ مفتی جب ریاست میں بدامنی کابو ل بالاہواتواُنھیں جموں میں آمیدکی کرن نظرآئی کیونکہ کشمیرسے ہجرت کرنے والے پنڈتوں کوہی نہیں بلکہ کشمیری مسلمانوں کوبھی جس اندازمیں جموں والوں نے جگہ دی اورانکی بھرپورامدادواعانت کی تویہ انسانی ہمدردی اورمذہبی بھائی چارے کی ایک زندہ مثال ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں والوں نے ان مہاجرین کوسینے سے لگاکربہادری اورانسانیت کامظاہرہ کیا۔وزیراعلیٰ نے بدامنی کوسماج کے ہرطبقہ کیلئے ضررساں قراردیتے ہوئے کہاکہ سب سے زیادہ چھوٹے بچے ،طالب علم اورنوجوان بدامنی سے متاثرہوجاتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ شورش کی صورتحال میں نظام تعلیم میں بگاڑپیداہوجاتاہے اوربے روزگاری بڑھ جاتی ہے ۔انہوں نے سجوان جموں میں فوجی کیمپ پرہوئے فدائین حملے اوراسکے بعدضلع کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ کی آبروریزی وقتل کے واقعے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ مختلف قوتیں جموں میں مذہبی بھائی چارے کوزک پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔وزیراعلیٰ نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کوخبردارکیاکہ وہ سماج کومذہبی اورلسانی بنیادوں پرتقسیم کرنے والی قوتوں سے ہوشیاراورخبرداررہیں ۔انہوں نے کہاکہ جموں میں سیکولرقوتیں ہمیشہ مذہبی بھائی چارے کیلئے متحرک رہی ہیں اوراس مرتبہ بھی یہ لوگ مذہبی رواداری کوزک پہنچانے کے مکروہ عزائم کوناکام بنادیں گی ۔محبوبہ مفتی نے جموں والوں کویاددلایاکہ مرحوم مفتی محمدسعیدنے صرف اس بناءپربی جے پی کاہاتھ تھاماکیونکہ جموں والوں نے اس پارٹی کوالیکشن میں منڈیٹ دیااورہم نے اس عوامی منڈیٹ کی قدرکی ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مزیدکہاکہ اسی عوامی منڈیٹ کی قدرکرتے ہوئے مفتی صاحب مرحوم نے سرکارمیں بھاجپاکوبرابرکی حصہ داری فراہم کی ۔انہوں نے کہاکہ ہم تینوں خطوں کی یکساں ترقی اوروہاں کے لوگوں کی خوشحالی کے وعدے پرکاربندہیں اورپی ڈی پی کبھی جموں واسیوں کومایوس نہیں کرے گی ۔کے این ایس نمائندے کے مطابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی تقریرکے دوران پھرایک مرتبہ منقسم ریاست جموں وکشمیرکے بندپڑے سبھی راستوں کوکھولنے کی وکالت کی ۔انہوں نے کہا’ گرچہ جموں وکشمیرنے بھارت کیساتھ الحاق کرکے اپنی سیاسی تقدیرکافیصلہ کیاہے‘تاہم سماجی و اقتصادی خوشحالی اورتیزترقی کی خاطر جموں وکشمیرکوآواجاہی اورٹریڈکیلئے بیرون دنیاکیساتھ جوڑناپڑے گا۔وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ منقسم ریاست جموں وکشمیرکے درمیان سبھی راستوںکوآواجاہی اورتجارتی سرگرمیوں کیلئے کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ اس خطے میں بھی ترقی اورخوشحالی آسکے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ بندپڑے راستے کھولنے سے صرف آریاپارتجارت اورآواجاہی آسان نہیں ہوگی بلکہ ریاست کی مصنوعات اوریہاں کی مختلف چیزوں کیلئے بڑامارکیٹ پیداہوگا۔وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس اُمیدکااظہارکیاکہ وزیراعظم نریندرمودی کی سربراہی والی مرکزی سرکاربندپڑئے راستوںکوکھولنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے گی ۔انہوں نے مذکرات کوبحالی امن کی کنجی سے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ سبھی متعلقین کیساتھ بات چیت کرکے قیام امن اوربے روزگاری کے مسئلے کوحل کیاجاسکتاہے۔

Comments are closed.