ڈاکٹر محمد قاسم اور ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی جموں منتقل
¿سری نگر:محبوس جنگجوﺅں اورمزاحمتی لیڈروں کے تئیں نئی پالیسی کے تحت ڈاکٹرمحمدقاسم فکتواورمحمدشفیع شریعتی کوسری نگرسے جموں منتقل کرکے الگ الگ جیلوں میں بندرکھاگیا۔اس دوران معلوم ہواکہ ایسے سبھی نظربندوں کوجموں کے مختلف جیلوں میں منتقل کیاجارہاہے جن کیخلاف سنگین نوعیت کے الزامات یاکیس ہیں جبکہ حالیہ دنوں میں سبھی غیرملکی جنگجوﺅں اورقیدیوں سمیت ایک درجن کے لگ بھگ مقامی نظربندوں کوبھی سینٹرل جیل سے جموں بھیجاگیاہے۔اُدھر یہ بھی معلوم ہواکہ اب سنگین نوعیت کے الزامات والے نظربندوں کوکیسوں کی سماعت کے روزعدالتوں میں پیش نہیں کیاجائیگابلکہ ایسے سبھی کیسوں کی سماعت ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے ہواکرے گی ۔خیال رہے 6فروری کوصدراسپتال سرینگرمیں پیش آئے فائرنگ کے ایک واقعے کے دوران 2پولیس اہلکارازجان ہوئے تھے ،اوراسی دوران لشکرکمانڈرنویدجاٹ یہاں سے فرارہونے میں کامیاب ہوگیاتھا،اوراس سنسنی خیز واقعے کے بعدسینٹرل جیل سری نگرکے سپرانٹنڈنٹ اورڈی جی پی جیل خانہ جات کوبھی تبدیل کیاگیا۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق سنیچرکی شام مسلم دینی محاذکے محبوس سربراہ ڈاکٹرمحمدقاسم فکتواورایک معروف مزاحمتی لیڈرومصنف ڈاکٹرمحمدشفیع شریعتی کوسری نگرسینٹرل جیل سے جموں منتقل کرکے بالترتیب اودھم پور جیل اورسب جیل ہیرانگرکٹھوعہ میں بندرکھاگیا۔دونوں مزاحمتی لیڈروں کے قریبی حلقوں نے اسکی تصدیق کی کہ ایک قتل کیس کی پاداش میں عمرقیدکی سزاکاٹ رہے عاشق حسین فکتوالمعروف ڈاکٹرمحمدقاسم اورڈاکٹرمحمدشفیع شریعتی کوگزشتہ شام سری نگرسے جموں منتقل کیاگیا۔اُدھرمعلوم ہواکہ اسے پہلے سری نگرسینٹرل جیل سے تمام غیرملکی قیدیوں کے علاوہ مقامی نظربندوں بشمول نذیر احمد شیخ ، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، عبدالحمید تیلی، طارق احمد ڈار ، رئیس احمد ، شوکت احمد حکیم، عادل احمد زرگر، مومن احمد، محمد اسحاق پال ، عمران نبی وانی ، معراج الدین ، دانش ملک ، فیروز احمد، مفتی عبدالاحد ، عامر احمد وگے کوبھی جموں کی الگ الگ جیلوں میں بھیجاگیا۔غورطلب ہے کہ لشکرکمانڈرنویدجاٹ کے فرارہوجانے کے بعدجیلوں اورقیدیوں کے حوالے سے ایک نئی اورسخت پالیسی مرتب کی گئی ،اوراسی پالیسی کے تحت بیشترغیرملکی قیدیوں اورمتعددمقامی نظربندوں کوسری نگراوروادی کی دیگرجیلوں سے جموں منتقل کیاگیاجبکہ بتایاجاتاہے کہ ایسے سبھی نظربندوں کوجموں کے مختلف جیلوں میں منتقل کیاجارہاہے جن کیخلاف سنگین نوعیت کے الزامات یاکیس ہیں۔اُدھر یہ بھی معلوم ہواکہ اب سنگین نوعیت کے الزامات والے نظربندوں کوکیسوں کی سماعت کے روزعدالتوں میں پیش نہیں کیاجائیگابلکہ ایسے سبھی کیسوں کی سماعت ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے ہواکرے گی ۔خیال رہے 6فروری کوصدراسپتال سرینگرمیں پیش آئے فائرنگ کے ایک واقعے کے دوران 2پولیس اہلکارازجان ہوئے تھے ،اوراسی دوران لشکرکمانڈرنویدجاٹ یہاں سے فرارہونے میں کامیاب ہوگیاتھا،اوراس سنسنی خیز واقعے کے بعدسینٹرل جیل سری نگرکے سپرانٹنڈنٹ اورڈی جی پی جیل خانہ جات کوبھی تبدیل کیاگیا۔
Comments are closed.