صفہ عصمت دری و قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر کٹھوعہ میں ہڑتال
جموں::جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاو ¿ں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ضلع کٹھوعہ میں ہفتہ کے روز ایک بے نام تنظیم کی اپیل پر ہڑتال کی گئی۔ کیس میں کلیدی ملزم قرار دیے جانے والے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گذشتہ ہفتے ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ اور بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ نے اس ہڑتالی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کال دینے والی بغیر نام کی تنظیم، ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سی ایشن کٹھوعہ کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی (کرائم برانچ پولیس) ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہے۔ یہ تینوں جماعتیں کرائم برانچ کے تحقیقاتی عمل کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیکر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں اور اس کے لئے ایجی ٹیشن کررہی ہیں۔ ان جماعتوں نے ہڑتال کے دوران ہفتہ کو کٹھوعہ میں متعدد جگہوں پر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر احتجاجی دھرنے دیے۔ انہیں ریاست کی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ہندو ایکتا منچ کے لیڈران نے احتجاجی دھرنے کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کرائم برانچ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دباو ¿ میں کام کررہی ہے جبکہ کشمیری علیحدگی پسند بشمول جے کے ایل ایف چیئرمین یاسین ملک اس پر سیاست کررہے ہیں۔ منچ نے کشمیر کے میڈیا پر الزم لگایا ہے کہ وہ کیس کی منفی رپورٹنگ کررہا ہے اور اس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ منچ کے لیڈران نے کہا کہ ریاستی حکومت کو کیس کی سی بی آئی انکوائری پر مجبور کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز آٹو رکشا میں نصب لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ کٹھوعہ ٹاون اور مضافاتی علاقوں میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ لوگوں کو بغیر نام کی تنظیم کے افراد کو لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ یہ اعلان کرتے ہوئے سنا گیا ’آصفہ کیس کی سی بی آئی جانچ کو لیکر کل (ہفتہ کو) کٹھوعہ بند کا اعلان کیا گیا ہے۔ اہلیان کٹھوعہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کل اپنی دکانیں بند رکھیں اور پہیہ جام ہڑتال کریں‘۔ ہڑتال بلانے والی بے نام تنظیم کے ایک رکن جس نے اپنی شناخت یووا نیتا کے بطور کی، کا کہنا تھا ’یہ بند شہر کے نوجوانوں کی طرف سے بلایا گیا تھا۔ ہیرانگر میں ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ یہ ہڑتال غیرسیاسی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کیس کی سی بی آئی کے ذریعہ آزادانہ اور منصفانہ جانچ ہو‘۔ ہڑتال کی اپیل پر کٹھوعہ میں ہفتہ کے روز دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر قصبہ کٹھوعہ میں ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی تھی۔ آصفہ عصمت دری و قتل کیس کی سی بی آئی انکوائری کرانے کے لئے ایجی ٹیشن کررہی تنظیم ہندو ایکتا منچ کے سربراہ ایڈوکیٹ وجے شرما نے الزام لگایا کہ کرائم برانچ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دباو ¿ میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا ’کرائم برانچ کی تحقیقات وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے دباو ¿ میں ہورہی ہے۔ کشمیر میں علیحدگی پسند بشمول یاسین ملک اس پر سیاست کررہے ہیں‘۔ وجے شرما نے کہا کہ ہندو ایکتا منچ ایک غیرسیاسی تنظیم ہے اور اس میں ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ’کیس کو آزادنہ اور منصفانہ تحقیقات کے لئے سی بی آئی کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ دہلی میں گذشتہ برس پیش آئے عصمت دری اور قتل کیس کی تحقیقات کو بھی سی بی آئی نے ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا‘۔ منچ سربراہ نے دھمکی دی کہ کٹھوعہ کے لوگ حکومت کو سی بی آئی انکوائری پر مجبور کریں گے۔ ان کا کہنا تھا ’وزیر اعلیٰ مان جائے تو اچھا ہے نہیں تو لوگ احتجاج کریں گے اور دھرنے دیں گے۔ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے پر سرکار کو مجبور کریں گے‘۔ وجے شرما نے کہا ’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ یہ سرکار سی بی آئی جانچ کرانے سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے‘۔ انہوں نے ہڑتال کے بارے میں کہا ’بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ نے آج اپنا عدالتی کام کاج پورا دن معطل رکھا۔ اس ہڑتال کو یہاں کے نوجوانوں اور سماجی تنظیموںنے بلایا تھا‘۔ انہوں نے کہا ’آصفہ ہماری بچی تھی۔ اس کو انصاف ملنا چاہیے۔ لیکن بے گناہوں کو ستایا جارہا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’جن کو گرفتار کیا جاتا ہے، ان کا شدید ٹارچر کیا جاتا ہے۔ ٹارچر کے بعد ان کے بیانات ریکارڈ کئے جاتے ہیں‘۔ ہندو ایکتا منچ کے ایک اور لیڈر نے کشمیر کے میڈیا پر الزم لگایا کہ وہ کیس کی منفی رپورٹنگ کررہا ہے اور اس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا ’کشمیر میڈیا کیس کو ایک غلط انداز میں پیش کررہا ہے۔ وہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ ہم اس کی پرزور مخالفت کرتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم ناانصافی کے خلاف ہیں‘۔ انہوں نے مزید علاقوں کو بھی ایجی ٹیشن کے دائرے میں لانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ’لوگ اپنے آپ بند کررہے ہیں۔ جب تک سی بی آئی انکوائری نہیں ہوگی، احتجاج جاری رہے گا۔ اب ضلع سانبہ بند ہوگا۔ کانگریس کو کھلے عام ہمارے سپورٹ میں سامنے آنا چاہیے، نہیں تو ہم اس پارٹی کا بائیکاٹ کریں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’انتظامیہ کو ہڑتال کی ناکام بنانے کی بہت کوششیں کیں مگر کامیاب نہیں ہوئی۔ لوگ سی بی آئی انکوائری کے لئے ایک جٹ ہوگئے ہیں‘۔ بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ کے ایک رکن نے الزام لگایا کہ کرائم برانچ ریاستی حکومت کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہے اور اس پر ہمیں کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمارا ماننا ہے کہ کیس کی تحقیقات شفاف طریقے سے نہیں ہورہی ہے۔ اس پر ہمیں بھروسہ نہیں ہے۔ کرائم برانچ حکومت کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہے۔ یہ سی بی آئی انکوائری سے کیوں ڈر رہے ہیں‘۔ مذکورہ ایڈوکیٹ نے دعویٰ کیا کہ محبوبہ مفتی نے شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر کیس کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’جب شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر کا قتل ہوا تھا تو محبوبہ مفتی نے سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ کوئی نارتھ یا ساوتھ پول نہیں ہے۔ یہ حکومت ایک مخصوص کیمونٹی کے خلاف کام کررہی ہے۔ آج کے وقت ہم صرف سی بی آئی کو مستند مانتے ہیں۔ ہمیں ریاستی حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس کی سپریم کورٹ کے ذریعہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے‘۔ بتادیں کہ بی جے پی ریاستی یونٹ کے صدر ست شرما نے جمعہ کے روز آصفہ عصمت دری و قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا ایک مخصوص کیمونٹی کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ لوگوں کا سی بی آئی انکوائری سے متعلق مطالبہ جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے عنقریب پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور اس کے بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے واقعہ کی تحقیقات کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا جائے گا۔ ست شرما نے یہ باتیں ہیرا نگر کٹھوعہ کے کوٹہ نامی گاو ¿ں میں ہندو ایکتا منچ اور بی جے پی کے مشترکہ جلسہ کے ایک روز بعد کی تھیں۔ مشترکہ جلسہ سے خطاب کے دوران ریاستی حکومت کے سینئر بی جے پی وزراءچندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کرانے کا مطالبہ کرنے والے لوگ ہندو ایکتا منچ نامی تنظیم کے بینر تلے احتجاج کررہے ہیں۔ اس تنظیم نے گذشتہ ہفتے آصفہ عصمت دری و قتل کیس میں کلیدی ملزم قرار دیے گئے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گگوال سے سب ضلع مجسٹریٹ ہیرا نگر کے دفتر تک احتجاجی مارچ نکالا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کمسن بچی کی عصمت دری اور قتل کے ملزم کے حق میں نکلنے والے اس احتجاجی مارچ کے شرکاءنے اپنے ہاتھوں میں ترنگے اٹھا رکھے تھے اور ریاستی پولیس کے اہلکار احتجاجیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلتے ہوئے نظر آئے تھے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عصمت دری اور قتل کے ملزم کے حق میں ہونے والے احتجاج میں قومی پرچم کی موجودگی پر اپنی حیرانگی ظاہر کی تھی اور اسے قومی پرچم کی توہین قرار دیا تھا۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا ’کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس میں گرفتار شخص کے دفاع میں احتجاج کے بارے میں سن کر حیرانگی اور مظاہرین کے ہاتھوں میں قومی پرچم دیکھ کر میں بہت خوفزدہ ہوئی۔ یہ قومی پرچم کی توہین ہے۔ ملوث شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کاروائی ہوگی‘۔ کرائم برانچ پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے 9 فروری کو آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کے کلیدی ملزم دیپک کھجوریہ کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا تھا ۔ 28 سالہ ملزم ایس پی او پولیس تھانہ ہیرانگر میں تعینات تھا۔ دیپک کھجوریہ اُس پولیس ٹیم کا حصہ تھا جو آصفہ کے اغوا کے بعد اس کی تلاش کررہی تھی۔ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاو ¿ں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ قتل اور عصمت دری کے اس واقعہ کے خلاف مقتولہ بچی کے کنبے اور رشتہ داروں نے اپنا شدید احتجاج درج کیا تھاجبکہ اپوزیشن نے اسمبلی میں اپنا احتجاج کئی دنوں تک جاری رکھا تھا ۔ یو این آئی
Comments are closed.