’’پٹیشن کمیٹی‘‘ کی رپورٹ یکطرفہ اور حقیقت سے بعید :ایوش ویلفیئر فورم 

سرینگر؍؍ایوش ویلفیئر فورم نے ممبر اسمبلی چودھری سکندن کمار کی سربراہی والی ’’پٹیشن کمیٹی‘‘ کی رپورٹ کو یکطرفہ اور حقیقت سے بعید قرار دی ۔مذکورہ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ کمیٹی علاقائی اور مذہبی بنیاد پر تشکیل دی گئی ۔تعمیل ارشاد کو موصولہ ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایوش ویلفیئر فورم کا ایک خصوصی اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ممبر اسمبلی چودھری سکندن کمار کی سربراہی والی ’’پٹیشن کمیٹی‘‘ کو یکسر مسترد کردیا گیا جبکہ فورم نے بتایا کہ مذکورہ رپورٹ حقیقت سے بعید اور یکطرفہ ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ’’پٹیشن کمیٹی‘‘ نے جو رپورٹ ترتیب دی ہے ،اُس ترتیب دینے کے وقت ایوش ویلفیئر فورم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ایوش ویلفیئر فورم جموں وکشمیر کے (آئی ایس ایم ) ڈاکٹروں کی نمائندہ جماعت ہے ۔بیان میں بتایا گیا کہ مذکورہ کمیٹی کی جانب سے ترتیب دی گئی رپورٹ میں جموں وکشمیر انتظامیہ میں اعلیٰ انتظامیہ آفیسراں پر بے بُنیاد الزامات بھی لگائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالکبیر ڈار سیکریٹری(ٹیکنیکل) ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن جن کے پاس ڈائریکٹر آئی ایس ایم کا اضافی عہدہ بھی ہے کے خلاف بھی غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ اے ڈی اے (کے) قانونی طور پر ڈاکٹروں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے اسے رجسٹرڈ نہیں کیاگیا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ریاستی عدالت عالیہ نے مذکورہ تنظیم کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دس برس قبل یہ ایسو سی ایشن عارضی طور پر تشکیل دی گئی تھی جبکہ اُس وقت اس ایسو سی ایشن کے انتخابات بھی نہیں کرائے گئے تھے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس ایسو سی ایشن کے کچھ ممبر فوت ہو چکے ہیں جبکہ کچھ ممبروں کو جان بوجھ کر عہدوں سے ہٹایاگیا تاکہ دیگر ممبروں کو اُن کی جگہ شامل کیاجاسکے۔ ایوش ویلفیئر فورم نے مزید بتایا ہے کہ آئی ایس ایم ڈاکٹروں کی نمائندہ جماعت ہے جسے ایک برس قبل باضابطہ طور انتخابات کے بعد تشکیل دیا گیاہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ ایوش ویلفیئر فورم کا انتخاب جمہوری اور شفاف بُنیاد پر ہوا جبکہ اس کے بارہمولہ، سرینگر اور بانڈی پورہ اضلاع سے ممبران منتخب کئے گئے ہیں جس کے بعد یہ فورم انتخابی عمل کے تحت تشکیل دیاگیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ جب نومبر2016سے لیکراپریل2017تک ڈاکٹر کبیر نے محکمہ کا سربراہ کے بطور عہدہ نہیں سنبھالا تھا ،فوری طوری طرح سے یہ محکمہ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا ۔

Comments are closed.