جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار انتہائی تشویشناک:حریت”ع“
سرینگر::حریت ”ع “نے جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ان جیلوں کی سیکورٹی بڑھانے کی آڑ میں ان قیدیوں کو درپیش مشکلات اور مسائل کے حوالے سے ریاستی اور بھارتی حکومت کا رویہ حد درجہ غیر جمہوری اور غیر انسانی ہے ۔
بیان میں سرینگر سینٹرل جیل میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوںکو باہر کی جیلوں میںمنتقل کرنے کی کارروائی کو سراسر انتقام گیری سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا کہ محض ایک قیدی کے فرار کو آڑ بناکر دیگر قیدیوںکو عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں بلا وجہ سرینگر سے باہر منتقل کیا جارہا ہے ۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی عدالت عالیہ کے واضح حکم کے باوجود ان قیدیوں کو بیرونی جیلوں میں منتقل کرنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں ہے اور حکمران طبقہ محض اپنی کوتاہی کو چھپانے کیلئے اس طرح کے آمرانہ اقدامات سے کام لے رہا ہے ۔
بیان میں کہا گیا کہ سرینگر سینٹرل جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے کئی قیدیوں جن میں نذیر احمد شیخ ، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، عبدالحمید تیلی، طارق احمد ڈار کے علاوہ رئیس احمد ، شوکت احمد حکیم، عادل احمد زرگر، مومن احمد، محمد اسحاق پال ، عمران نبی وانی ، معراج الدین ، دانش ملک ، فیروز احمد، مفتی عبدالاحد ، عامر احمد وگے کے علاوہ درجنوں قیدی شامل ہیں کی جموں منتقلی سراسر انتقام گیرانہ پالیسی سے عبارت ہے اور حکمران طبقہ خود اپنے ہی عدالتوں کے احکامات کو پس پشت ڈال کر من مانی کارروائیوں پر اتر آیا ہے ۔
اس دوران حریت چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی ہدایت پر حریت کانفرنس سے وابستہ درجنوں کارکنوں نے مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر نماز جمعہ کے بعد ان قیدیوں کی بلا وجہ جموں منتقلی کیخلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکمرانوں کی آمرانہ پالیسیوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔
بیان میں کٹھوعہ میں جنوری کے اوائل میں ایک آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ کے ساتھ زیادی اور بعد میں اسکو بہیمانہ طریقے سے قتل کئے جانے کے واقعہ پر ہندو ایکتا منچ نامی تنظیم اور حکمران بی جے پی کی سیاست کاری کو حد درجہ افسوسناک اور اصل واقعہ سے توجہ ہٹانے کی گھناﺅنی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ جس طرح مذکورہ منچ نے قاتل کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے اور جس طرح اب بی جے پی کے ارکان ان عناصر کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں اس سے ان ہندو انتہا پسند عناصر کے عزائم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک معصوم بچی کے قتل پر اظہار افسوس اور قاتل کو سزا دینے کا مطالبہ کرنے کے بجائے یہ عناصر اپنے حقیر مقاصد کے حصول کیلئے اس انسانی قتل کو سیاسی رنگ دیکر فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں جو حد درجہ شرمناک ہے ۔
اس دوران حریت کانفرنس کی عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں سینئر حریت رہنماﺅں جناب پروفیسر عبدالغنی بٹ، جناب محمد مصدق عادل، اور جناب خلیل محمد خلیل نے جامع مسجد تارزوہ سوپورمیں نماز جمعہ کے موقعہ پر ایک اجتماع سے خطاب کے دوران موجودہ سیاسی اور تحریکی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس پورے خطے کے کروڑوں عوام کے سیاسی مستقبل کیلئے برابر خطرہ بنا ہوا ہے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال اسی مسئلہ کا شاخسانہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر اس پورے خطے میں دائمی امن اور استحکام کا خواب ہرگز شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور یہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی دوراندیشی اور تدبر سے کام لیتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے بامعنی اقدامات اٹھائیں۔
Comments are closed.