رم جھم بارش سے وادی کا موسم خوشگوار
سرینگر ۔جموں شاہراہ پر پسیاں گرآنے سے ٹریفک کی نقل وحرکت بند،بین الضلعی راستے بھی منقطع
سرینگرتازہ رم جھم بارشوں سے وادی کشمیر کا موسم خوشگوار ہوگیا جبکہ بعض بالائی علاقوں میں درمیانہ درجے کی برفباری ہوئی ۔محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیر پنچال کے آرپار بارشوں اور برفباری کی پیش گوئی کی تھی ۔ادھر وادی کشمیر کو بیرون دنیا سے جوڑنے والی سرینگر۔جموں شاہراہ تودے گرنے کی وجہ سے آج ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی جبکہ کئی بین الضلعی راستے بھی ضلع ہیڈ کواٹر سے کٹ کر رہ گئے ۔دریں اثناءحکام نے برفبانی تودے گرآنے کی وارننگ جاری کی ہے۔
پیر پنچال کے آر پار جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات سے تازہ بارشوں اور برفباری کا سلسلہ شروع ہوا ،جو جمعہ کو وقفے وقفے سے دن بھر جاری ہے ۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں گزشتہ12گھنٹوں کے دوران میدانوں علاقوں میں چاروں اطراف بارشیں ہوئیں جبکہ بالائی علاقوں میں تازہ درمیانہ درجے برفباری ہوئی ۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان نے درجہ حرارت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سرینگر میں کم ازکم درجہ حرارت 6.8ڈگری ،پہلگام میں 1.9ڈگری اور گلمرگ میں 1.6ڈگری کم ازکم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ۔
خطہ لداخ میں درجہ حرارت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ لہیہ میں کم ازکم درجہ حرارت منفی0.4ڈگری اور کرگل میں منفی4.3ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ خطہ لداخ کا کرگل علاقہ ریاست کا سرد ترین علاقہ اب بھی ہے ۔
صوبہ جموں میں محکمہ موسمیات کے ترجمان نے درجہ حرارت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جموں میں کم ازکم درجہ حرارت 14.8ڈگری ،کٹرا12.4ڈگری ،بانہال میں 6.1ڈگری ،بھدرواہ میں 6.7ڈگری اور ادھمپور میں کم ازکم درجہ حرارت13ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔
اس دوران وادی کشمیر کو بیرون دنیا سے جوڑنے والی سرینگر۔جموں قومی شاہراہ تودے گرنے کی وجہ سے ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی۔ٹریفک پولس کے ایک افسر نے بتایا کہ دگڈول سمیت دیگر مقامات پر تودے گرنے کی وجہ سے سرینگر-جموں قومی شاہراہ کو صبح سے بند کر دیا گیا ہے۔
حکام نے مشینیں اور ملازمین کو راستے سے مٹی اور پتھر ہٹانے کے کام میں لگایا ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں کشمیر جانے والی گاڑیاں خاص طور سے ضروری سامان سے لدے ٹرک ہائی وے پر پھنسے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ برف جمع ہونے اور پھسلن کی وجہ سے گزشتہ دسمبر سے تاریخی مغل روڈ اور لداخ کو کشمیر سے جوڑنے والی قومی شاہراہ بند ہے۔
ٹریفک حکا م کا کہنا ہے کہ مذکورہ شاہراہ پر سفر کرنے سے قبل سرینگر اور جموں میں قائم کئے گئے خصوصی کنٹرول رومز کے ساتھ رابط کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات عوام کے جان ومال کی حفاظت کےلئے اٹھائے جارہے ہیں ۔
ادھر کئی بین الضلعی راستے بھی ضلع ہیڈ کواٹر سے کٹ کر رہ گئے۔معلوم ہوا ہے کہ بھاری بارشوں کے نتیجے میں کپوارہ ۔ٹنگڈار روڑ ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ اس روڑ پر ٹریفک کی نقل وحر کت بند کردی گئی ۔
کپوارہ ۔ٹنگڈار روڑ سرحدی قصبوں کرناہ اور مژھل کو کپوارہ کے ہیڈ کواٹر سے جو ڑتا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ بالائی علاقوں میں بھاری بارشیں اور درمیانہ درجے کی برفباری ہونے کے بعد سڑک حادثات سے بچنے کےلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ۔
حکام کے مطابق بارشوں اور برفباری کے بعد سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوجاتی ہے جبکہ پسیاں ،مٹی کے تودے اور چٹانیں کھسکنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر خالد جہانگیر نے بتایا کہ موسم میں بہتری کے ساتھ ہی اس روڑ پر آوا جاہی کو بحال کردیا جائیگا ۔
یاد رہے کہ ضلع میں پہلے ہی برفبانی تودے گرآنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے ۔
Comments are closed.