محکمہ تعلیم کے عارضی ملازمین پر پولیس کی یلغار ،درجنوں گرفتار

سرینگر:شہر کے ریذیڈنسی روڑ پر جمعرات کو اُس وقت کچھ دیر کیلئے افراتفری پھیل گئی جب پولیس نے محکمہ تعلیم میں کام کررہے عارضی ملازمین کو ڈائریکٹوریٹ آفس کی طرف مارچ کرنے سے روکااور انہیں پریس کالونی تک ہی محدود رکھا۔

محکمہ تعلیم کے کنٹن جنٹ پیڈ ملازمین نے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں ایک احتجاجی مہم شروع کررکھی ہے جس کے تحت آئے روز جلسے جلوس، ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔اسی سلسلے کی ایک کڑی کے تحت جمعرات کو وادی کے مختلف علاقوں میں تعینات ملازمین کی ایک بڑی تعداد جن میں خواتین بھی شامل تھیں،نے پہلے پرتاپ پارک اور بعد میںپریس انکلیو کے باہر دھرنا دیا۔

یہ احتجاج کنٹن جنٹ پیڈ ورکرس یونین کے بینر تلے کیا گیا ۔اس موقعے پر ملازمین نے حکومت کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں زوردار نعرے بازی کی۔احتجاجی ملازمین نے اخباری نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ایس آر او520کے دائرے میں لانے کا سرکاری طور وعدہ کیا گیا تھا لیکن ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کےلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے بیشتر ورکرتعلیم یافتہ ہیں اور ان کی نوکری کو باقاعدہ بنایا جانا چاہئے۔

مظاہرین نے بتایا”ہم گزشتہ بیس برس سے دن رات محنت اور ایمانداری سے محض25سے1000روپے کے مشاہرے کے عوض اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں لیکن حکومت ہمارے جائز مطالبات کو ماننے سے انکار کررہی ہے“۔انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کے لئے مستقلی سے متعلق پالیسی فوری طور وضع کی جائے اور انہیں کم سے کم اجرتوں سے متعلق قانون کے تحت مشاہرہ ادا کیا جائے۔

ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ آفس تک احتجاجی مارچ کرنے کا پروگرام مرتب کیا تھا۔ جونہی ملازمین نے پرتاپ پارک سے باہر آکرمارچ شروع کیا تو پولیس کی بھاری جمعیت نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور انہیں پریس کالونی تک محدود کرکے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔

اس صورتحال کی وجہ سے ریذیڈنسی روڑ پر کچھ دیر کےلئے گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑا، تاہم بعد میں حالات معمول پر آگئے ۔اہم اس سے قبل نامی نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران ملازمین نے احتجاج جاری رکھنے کا اعادہ کیا اور دھمکی دی کہ اگر ان کی مانگیں پوری نہیں کی گئیں تو وہ ا پنے احتجاج میں شدت لانے پر مجبور ہونگے جس کے تحت5مارچ سے بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی جبکہ اسکولوں کو بند کردیا جائے گا۔

Comments are closed.