فوجی حکام ریاستی جوانوں کو پشت بہ دیوار کرکے ان کے قتل عام کے لئے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔شبیر احمد شاہ

فریڈم پارٹی کے محبوس سربراہ شبیر احمد شاہ نے بھارتی حکام کی جانب سے ان کے متضاد بیانات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ خود ایک دوسرے کے خیالات سے متفق نہیں اور ان کے پاس مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں کوئی متفقہ رائے نہیں سوائے اس کے کہ نوجوانوں کو مشتعل کرکے انہیں پشت بہ دیوار کیا جائے ۔سوموار کو جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ ایک طرف بھارتی فوج کے آرمی چیف جنرل راوت عام شہریوں اور نوجوانوںکے خلاف ہر بہیمانہ طریقہ روا رکھنے کے حق میں ہیں اور ان کے بیان سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ وہ ریاست کے نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کررہے ہیں تاکہ عسکریت پسندی کی آڑ میں انہیں قتل عام کو جاری رکھنے کے لئے بہانہ ہاتھ آئے ۔انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جنرل راوت کے بیان نے ہمارے اس دعوے کی تصدیق کہ فوجی جان بوجھ کر تعلیمی اداروں میں داخل ہو کر نوجوانوں کو مشتعل کررہے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ نوجوانوں پر تشدد ڈھانے اور اس کی ویڈیو اور صوتی کلپ سوشل میڈیا پر جاری کرنے کے ارادوں سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ بھارت اور اس کے رہنماء ریاست میں نوجوان نسل کو ختم کرنے کے لئے خود ہی جواز تلاش کررہے ہیں تاکہ انہیں موت کا کھیل کھیلنے کا موقع ملے ۔
شبیر احمد شاہ نے نوجوانوں کی جانب سے ان کی مزاحمت کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظلوم اور معتوب قوم کے جائز حقوق پامال کئے جانے اور ان کے بنیادی حق پر شب خون مارنے کے بعد مزاحمت کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا اور تاریخ کے مطالعے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مزاحمت ایک مغلوب قوم کے لئے ایک جائز ذریعہ ہے ۔انھوں نے اس بات کو واضح کیا کہ ریاست کے عوام جنگ جوئی کے حق میں نہیں البتہ بھارت کے حکمرانوں کو اس بات پر غور فکر کرنا چاہئے کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ریاست کے سیاسی حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی ،جس سے انارکی اور سیاسی بے یقینی کی کیفیت جاری ہے۔
شبیر احمد شاہ نے راجناتھ سنگھ ،امیت شاہ ،ارون جیٹلی اوربھارت کے دیگر لیڈران کے بیان کو ایک دوسرے کی ضد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے یہ لوگ سوائے اس بات کے متفق نہیں کہ نہتے عوام کو بندوق اور بارود سے زیر کرنا چاہتے ہیں۔شبیر احمد شاہ نے راجناتھ سنگھ کے اس بیان کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سبھی فریقین سے بات کی جائے گی ،پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کاش ایسا ہوتا اور اس طرح برصغیر ایک کشاکش اور بے چینی کی رواں لہر سے اُبھر کر امن کے ایک ایسے خطے کی شکل اختیار کرلیتا جہاں بھوک ،بیماری اور بدامنی کی فضا نہ ہو ۔
شبیر احمد شاہ نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے ایک تاریخی حقیقت کے پس منظر میں اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ سات دہائیوں سے سہہ فریقی بات چیت یا اقوام متحدہ میں منظور کی گئی قرادادوں کے ذریعہ اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں ۔

Comments are closed.