حکومت عوامی مسائل کے تئیں غیر سنجیدہ ماہ رمضان میں بھی لوگوں کو بجلی، پانی اور راشن کی قلت کا سامنا: ساگر
بیروہ// موجودہ حکومت کے طریقہ کار سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ پی ڈی پی بھاجپا اتحاد کو عوام کو راحت پہنچانے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں اور یہ دونوں جماعتیں اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں مصروفِ عمل ہیں۔ ریاست کے کونے کونے میں راشن، پانی اور بجلی کی قلت اور سڑکوں کی خستہ حالی نے حکومت کی نااہلی اور عوام کش پالیسیاں عیاں کرکے رکھ دی ہیں۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر کرفیو اور بندشوں کے باوجود مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔عوامی وفود نے راشن، کھانڈ،بجلی، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم فراہمی کی شکایات کیں۔وفود نے بتایا کہ کرفیو اور بندشیں لگانے میں حکومت ایک پل کی دیری نہیں کرتی ہے لیکن لوگوں کی راحت رسانی کیلئے سرکاری مشینری سے کوئی بھی کام نہیں ہوپارہا ہے۔ ساگر نے کہا کہ لوگوں کو راحت پہنچایا اور عوامی مشکلات کو جنگی بنیادوں پر حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے لیکن موجودہ پی ڈی پی حکومت کے طریقہ کار سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ عوامی مشکلات کے تئیں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ رمضان المبارک میں بھی لوگوں کو ضروریاتِ زندگی میسر نہیں۔ بدقسمتی سے ماہِ رمضان میں بھی لوگوں بہت سارے علاقے پانی اور بجلی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ رمضان المبارک میں بھی حکومت کی طرف سے پانی ، بجلی اور راشن کی سپلائی میں کسی قسم کی معقولیت نہیں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم گرما میں بھی چلۂ کلان کا بجلی شیڈول جاری ہے، راشن گھاٹ خالی پڑے ہیں، بس حکومت بلند بانگ دعوے ہی کرتی پھر رہی ہے ۔رمضان المبارک کی آمد سے قبل حکومت سطح پر لوگوں کو وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء کی میٹنگوں کی تصاویر اور ویڈیو دکھائے گئے لیکن زمینی سطح پر کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ماہ رمضان کے دوران ضروریاتِ زندگی خصوص بجلی اور پانی کی سپلائی یقینی بنائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو راشن بھی میسر رکھا جائے۔
Comments are closed.