حاجن شوٹ آﺅٹ،زخمی جنگجو دم توڑ بیٹھا:پولیس
جلوس نکالنے اور مظاہرے کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی :آئی جی کشمیر
حاجن:بان محلہ حاجن میں پیر کے روز فوج وفورسز اور جنگجو ﺅں کے درمیان ہوئی مختصر سی جھڑپ میں زخمی ہونے والا ایک غیر مقامی جنگجو ازجان ہو گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کے روز بان محلہ حاجن میں جنگجو مخالف کارروائی کے دوران تین جنگجو فوج وفورسز کے محاصر ے میں پھنس گئے ،جس دوران طرفین کے مابین مختصر گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔
ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے،تاہم ایک جنگجو زخمی ہوا تھا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔
بتایا کہ جاتا ہے کہ مہلوک جنگجو کی نعش منگل کی صبح حاجن میں ہی پائی گئی ۔غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ازجان ہوئے غیر مقامی جنگجو کی شناخت ابوحارث کے نام سے ہوئی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ازجان ہوئے جنگجو کی نعش لوگوں نے اپنی تحویل میں لی اور حاجن میں ہی اُسکی نماز جنازہ ادا کی گئی ،جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔بعد ازجاں بحق جنگجو کی میت کو حاجن میں ہی سپرد لحد کیا گیا ۔
سال2015کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ غیر مقامی جاں بحق جنگجو کو مقامی لوگوں نے سپرد لحد کیا گیا ۔انتظامیہ نے غیر مقامی جنگجو کی جنازہ میں لوگوں کی شرکت پر پابندی کی ہوئی ہے۔یہ پابندی انتظامیہ نے لشکر طیبہ کمانڈر ابو قاسم کے جنازے میں لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت کے بعد عائد کی تھی ۔یاد رہے کہ ابو قاسم سنہ2015میں جنوبی ضلع کولگام میں ایک جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوا تھا ۔
پولیس ردِ عمل
ادھر پولیس ترجمان نے منگل کے روز ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بان محلہ حاجن میں پیر کے روز ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے دوران یہاں موجود جنگجو ﺅں اور فو رسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔
پولیس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ تلاشی کارروائیوں کے علاقے میں کوئی نعش برآمد نہیں ہو ئی کیو نکہ معرکہ آرائی کے دوران ایک لشکر جنگجو زخمی ہوا تھا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ منگل کے روز حاجن پولیس کو ایک جانکاری ملی کہ ایک جنگجو کی نعش حاجن میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنگجو کی نعش کو لوگوں نے اپنی تحویل میں لی تھی اور شہریوں سے گزارش کی گئی کی کہ غیر مقامی جنگجو کی نعش پولیس کے سپرد کی جائے ،تاہم اسکے باوجود غیر مقامی جنگجو کی نماز جنازہ کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے ادا کی گئی اور بعد ازاں مہلوک جنگجو کی میت سپرد لحد کی گئی۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ معاملے کی نسبت تحقیقات کی جارہی ہے کہ مہلوک جنگجو کون تھا؟جبکہ جلوس نکالنے اور لوگوں کو اُکسانے والوں
کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی ۔
ادھر انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ایس پی پنی نے بتایا ہے کہ بان محلہ حاجن میں معرکہ آرائی کے دوران زخمی جنگجو ساتھیوں کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہواتھا ۔انہوں نے پولیس نے امن وقانون کی صورتحال کو مد نظر رکھ کر مہلوک جنگجو کی نعش اپنی تحویل میں نہیں لی۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک کیس درج کیا گیا اور اُنکی شناخت کی جارہی ہے جو اس میں ملوث ہیں جبکہ اُنکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی ۔یاد رہے کہ بان محلہ حاجن میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے دوران جنگجوﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان مختصر گولیوں کا تبادلہ ہوا تھا جبکہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران فورسز کو شدید عوامی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
Comments are closed.