جائیز مطالبات کو لیکر جسمانی طور نا خیز افراد کا احتجاجی مارچ
سرینگر ::سالوں سال سے رُکی پڑی جائیز مانگوں کو لیکر جسمانی طور نا خیز افراد نے ایک مرتبہ مطالبات کو حل کرانے کیلئے پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ جس کے بعد انہوں نے صوبائی کمشنر کشمیر کے دفتر تک مارچ کیا جہاں انہوں نے ایک ممیورنڈم پیش کیا ۔
جائیز مطالبات کو لیکر جسمانی طور نا خیز افراد نے ایک مرتبہ پھر سوموار کی صبح صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے ۔احتجاجی میں شامل مظاہرین نے موجودہ مخلوط سرکار کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ان کے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے ۔ اس موقعہ پر میڈ یا سے بات کرتے ہوئے جسمانی طور نا خیز افراد کی تنظیم جموں کشمیر ہینڈ کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے اس با ت پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ریاستی سرکار جسمانی طور ناخیز افراد کے تئیں سوتیلی ماں کا سلوک کیا جا رہا ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر عبد الرشید بٹ نے بتایا کہ بقہ حکومتیوں کی طرح موجودہ مخلوط حکومت بھی ان کے جائیز مطالبات حل کرنے سے قاصر رہی۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں و کشمیر کی حکومت نے جسمانی طور ناخیز افراد کو نظر انداز کر دیا ہے اور ان کی فلاح و بہودی کے لئے کوئی اقدامات نہیں ا±ٹھائے جا رہے اور نہ ہی ان کے جائیز مطالبات کو حل کرنے کے لئے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔بٹ نے کہا کہ گزشتہ سال ماہ فروری میں ہی سول سیکرٹریٹ جموں میں ریاستی و زیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں وزیر سماج و بہود کے علاوہ دیگر کئی افسران بھی شامل تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی تھی کہ جسمانی طور نا خیز افراد کے مطالبات کو حل کرنے کیلئے اقداما ت اٹھائیں جائے تاہم آج تک ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔
عبد الرشید بٹ نے بتایا کہ اس سے کے بعد ایک اور میٹنگ 25ستمبر کو راج بھون سرینگر میں ریاستی گورنر این این ووہرا کی سربراہی میں منعقد ہوئی اور اس میں بھی وزیر سماج بہبود سجاد غنی لون شامل تھے ، میٹنگ میں تمام کمشنران بھی شامل تھے اور اس دوران ریاستی گورنر نے بھی افسران کو ہدایت دی کہ وہ جسمانی طور نا خیز افراد کے حقوق کو فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جبکہ ان تمام قوانین پر عمل پیرا ہو جائے جو مرکزی پبلک سروس کمیشن نے جسمانی طور نا خیز افراد کیلئے مختص کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی گورنر نے انہیں ہدایت دی تھی کہDisablity Act 2016کو پاس کیا جائے تاہم ریاستی اسمبلی میں یہ بات واضح ہوئی کہ جسمانی طور نا خیز افراد کی فلاح و بہود کیلئے سرکار سنجیدہ نہیں ہے ۔
صدر نے کہا کہ اگر چہ انہوں نے اپنے مطالبات کو حل کروانے کے لئے کئی بار احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ بھوک ہڑتال بھی کی تھی لیکن ریاست حکومت نے ان کو ہر بار جھوٹی یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل حل کئے جائے گئے تاہم آج تک ایسا نہ ہو سکا۔ اس لئے ہم آج ایک بات پھر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ساتھ ہی صدر ایسوسی ایشن نے ریاستی گورنر این این ووہرا سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے خصوصی اختیارت استعمال کرکے Disablity Act 2016کو لاگو کرنے کرکے اسکو ایکٹ پاس کریں کیونکہ ریاستی حکومت جسمانی طور نا خیز افراد کو وٹ بنک مانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ اس لئے ہماری طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ اسی دوران جسمانی طور نا خیز افراد نے پریس کالونی سے صوبائی کمشنر کشمیر کے دفتر تک مارچ کیا جہاں انہوں نے صوبائی کمشنر کشمیر کو ایک میمورنڈم پیش کیا ۔
Comments are closed.