کشمیری افسروں سے متعلق بی جے پی کا موقف شرمناک :انجینئر رشید

محبوبہ مفتی کو حالات سمجھنے کی نصیحت،بے بس ہونے کی صورت میں مستعفی ہونے کا مشورہ

سرینگر// بی جے پی کے وزراءکی جانب سے کشمیری بیوروکریٹوں کی تذلیل کئے جانے اور انہیں اپنی وزارتوں میں اعلیٰ عہدوں پر دیکھنے پر آمادہ نہ ہونے کی رپورٹوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے اس معاملے کو شرمناک بتایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس سے زیادہ تباہ کن کیا ہوگا کہ کشمیری افسروں کو اس حد تک تنگ کیا جارہا ہے کہ وہ اجتماعی طور مستعفی ہونے پر آمادہ بتائے جارہے ہیں۔ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا کہ بی جے پی کے وزراءکا وطیرہ ریاست اور یہاں کی افسر شاہی کو فرقہ وارانہ خطوط پر بانٹنے کی کوشش کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسی رپورٹس سچی ہیں تو یہ نا قابل قبول اور قابل مذمت ہیں اور انکا نتیجہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے وزراءکے کشمیری افسروں کو اپنی وزارتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز دیکھنے پر آمادہ نہ ہونے سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ کشمیریوں کو سکریٹریٹ میں دیکھنا برداشت نہیں کرپاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری افسروں کو ہی نہیں بلکہ بسنت رتھ جیسے ایماندار اور قابل افسر،جو عوام کے مفاد اوراطمینان کے مطابق ڈیوٹی کرتے ہوئے تباہ حال ٹریفک سسٹم کو سدھارنے کی کوشش کررہے ہیں،کے خلاف بھی سازشیں کی جانے لگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد میں بہترین کام کرنے کیلئے حالانکہ بسنت رتھ کو شاباشی دی جانی چاہیئے تھی لیکن انکی محض اسلئے تذؒیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں غیر ضروری نصیحتیں دی جارہی ہیں کیونکہ وہ عوام کیلئے سوحان روح بن چکے نام نہاد وی وی آئی پی کلچر کو ختم کرکے عام لوگوں کیلئے عبورومرور کو آسان بنانا چاہتے ہیں۔انجینئر رشید نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے حالات کو سمجھنے کیلئے کہتے ہوئے انہیں بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کی تجویز دی۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی محبوبہ مفتی کو اس حد تک بلیک میل کرنے لگی ہیں کہ کشمیری افسروں کیلئے سکریٹریٹ میں کام کرنا نا ممکن ہونے لگا ہے تو پھر انکا نام کیلئے اقتدار میں رہنا اور پی ڈی پی کا خود کو علاقائی پارٹی بتانا شرمناک ہے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے بیچ جاری لفاظی جنگ اور دونوںپارٹیوں کے ایک دوسرے پر اقربا پروری اور رشوت خوری کے الزامات لگائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ دراصل دونوں ہی پارٹیوں کو کشمیرمیں لوٹ مار کرنے کیلئے دلی کی پوری پوری حمایت اور اعانت حاصل ہے۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ سرتاج مدنی کے بیٹے کی تقرری کا مسئلہ ہو یا پیرزادہ منصور کی بیٹی کی نوکری کا ،نیشنل کانفرنس کے الزامات اور سوالات بے جا نہیں ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ سچے اور بر حق بیانات ان لوگوں کی طرفسے آنے پر بے معنیٰ ہوکے رہ جاتے ہیں کہ جنہوں نے خود اپنے دور اقتدار میں لوٹ کھسوٹ،اقربا پروری اور رشوت ستانی کے اس سے بدترین ریکارڈ بنائے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایمانداری سے تحقیقات کی جائے تو یہ بات وضاحت کے ساتھ سامنے آسکتی ہے کہ ہر موجودہ اور سابق وزیر یا رکن قانون سازیہ نے ایک نہ ایک طریقے سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے چوردروازے سے بھرتیاں کروائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند اہم عہدوں پر چوردروازے سے بھرتیاں کئے جانے کی مثالیں معمولی ہیں جبکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات اصل کہانی کو بے نقاب کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو ہمت ہو تو ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات پر آمادہ ہوجائیں اور یہ بات دیکھی جائے کہ گذشتہ بیس سال سے کتنے اروٹ مدنیوں کو چوردروازے سے اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا گیا ہے۔البتہ انہوں نے واضح کرنا چاہا کہ عمر عبداللہ کی کنبہ پروری،رشوت ستانی اور اس طرح کی ناپسندیدہ چیزیں محبوبہ مفتی کیلئے کوئی جوازیت نہیں ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں اپنے اپنے دور اقتدار میں وہ سب کرتی آرہی ہیں کہ جس سے عام لوگ اپنا قافیہ حیات تنگ پاتے ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال بر قرار رہی تو اسکے مین اسٹریم کی سیاست کیلئے انتہائی بھیناک نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

Comments are closed.