مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمولات زندگی کا پہہ مکمل طور جام  سرینگر کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین کرفیو ،شہر آبادی گھروں میں محصور  بندشوں کے باوجود سوپور ، پلوامہ ،شوپیان ، کپواڑہ اور اننت ناگ سمیت درجنوں مقامات پر پر تشدد جھڑپیں ، متعدد مضروب 

سرینگر /28مئی/سی این آئی جنوبی قصبہ ترال کے سیمو علاقے میں حزب کمانڈر اور اس کے ساتھیوں کے جاں بحق ہونے کے بعد مشترکہ  مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ریاست گیر ہڑتال کے نتیجے میں اتور کو شہرسرینگر کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین کرفیو اور وادی کے دوسرے اضلاع میں کرفیو جیسی پابندیوں اور پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔اس دوران ممکنہ احتجاج کے پیش نظر بیشتر مزاحمتی لیڈران کوگرفتار یا خانہ نظر بند کردیا گیا،تاہم اس کے باجود بھی پلوامہ ،کپواڑہ ،ترال ،اننت ناگ ، سوپور ، بانڈی پورہ اور وادی کے دوسرے علاقوں میں دن بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران پولیس اور مطاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے جن میں سے کئی ایک کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کر دیا گیا ۔ادھر سیکورٹی وجوہات کی بنا پروادی ریل سروس بھی احتیاطی طور معطل رکھی گئی جبکہ پری پیڈ موبائیل سروس اور انٹرنیٹ خدمات پر بھی پابندی بدستور جاری ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے ترال کے سیمو علاقے میں حزب کمانڈر سبزار احمد بٹ اس کے ساتھی اور اوڑی سیکٹر میں جاں بحق ہوئے چھ جنگجوئوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دو دنوں کی ہڑتال کی کال کے پہلے دن پائین شہر کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین کرفیو اور دوسرے اضلاع میں بندشوں کے نفاذ کے بیچ وادی میں مکمل اور ہمیہ گیر ہڑتال رہی ۔ شہر کے 7پولیس تھانوں نوہٹہ، مہاراج گنج،رعناواری ،صفاکدل اور کرالہ کھڈ اور ماسئمہ اور خانیارمیں اتوار کی صبح سے ہی سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے تھے جس کے تحت کئی علاقوں کو مکمل طور سیل کرکے تمام سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔لوگوں نے بتایا کہ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ سخت ناکہ بندی کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔مائسمہ ، گائوکدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کئی سڑکوں کو دن بھر لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند رکھا گیا۔ تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میںغیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ اس دوران ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی۔اْدھر جنوبی قصبہ ترال سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ علاقے میں انتظامیہ کی طرف سے بندشوں کے بیچ بندشوں کی پرواہ کئے بغیر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ادھر وادی کے دوسرے علاقوں میں بھی حکم امتناعی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا تاہم اس کے باوجود سوپور ، پلوامہ ،شوپیان  اننت ناگ ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ اور دیگر کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ادھر اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں بھی دن بھر سنسان نظر آئیںجس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ادھرممکنہ احتجاج کے پیش نظر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور دیگر کئی مزاحمتی تنظیموں کے لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ کچھ ایک کو باضابطہ طور گرفتار بھی کیا گیا۔دریں اثناء ہڑتالی کال کے پیش نظر بارہمولہ اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس منگل کو معطل رکھی گئی۔ریلویز کے ایک آفیسر نے بتایا کہ یہ اقدام سیکورٹی وجوہات کی بناء پر احتیاط کے بطور اٹھایا گیا کیونکہ ماضی میں اس طرح کے حالات میں ریلوے املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں

Comments are closed.