7مرتبہ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعدبرہان وانی کا جانشین اسلام و آزای کے حق میں نعرہ بازی کے بیچ آبائی علاقے میں سپرد خاک  سخت ترین بندشوں اور ہمہ گیر ہڑتال کے باوجود نماز جنازوں میں لوگوں کو سیلاب اُمڑ آیا ،ترال کی فضا سوگوار ،ہر آنکھ نم ،ہر دل رنجیدہ

سرینگر /28مئی/سی این آئی 7مرتبہ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعدجنوبی قصبہ ترا ل کے سیمو علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مختصر جھڑپ میں جاں بحق ہوئے مہلوک حزب کمانڈر برہان وانی کے جانشین سبزار بٹ کو اسلام وآزادی کے حق میں فلگ شگاف نعروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ اپنے آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیااور نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔کرنٹ نیوز آف انڈیانمائندے نے ترال سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہاسنیچروار کو قصبہ کے سیمو علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے دوران عسکری تنظیم حزب سے وابستہ دو مقامی جنگجوئوں جن کی شناخت سبزار احمد بٹ ساکنہ راٹھسونہ ترال اور فیضان مظفر بٹ ساکنہ ترال پائین کے بطور ہوئی جاں بحق ہو گئے ۔ نمائندے کے مطابق جمعہ کی شام دیر گئے جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبراس کے آبائی علاقوںمیں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور ان کے آبائی گائوںکے ساتھ ساتھ متعدد علاقوں میں شبانہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ نمائندے کے مطابق فیضان مشتاق کو اگرچہ شام دیر گئے ہی اپنے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا تاہم سبزار احمد بٹ کی میت رات دیر گئے ان کے آبائی علاقے میںپہنچائی گئی۔اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔حکام کو امن و قانون کی صورتحال میں خرابی پید اہونے کا احتمال ہے، اس لئے حساس علاقہ جات میں راتوں رات پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میں لا ئی گئی۔اتوار کی صبح آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداترال پہنچ گئے جس دوران دنوں جاں بحق جنگجوئوں کے نماز جنازے ادا کئے گئے ،عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر قریب 7مرتبہ نما ز جنازہ ادا کیا گیا ،۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد اس کو اپنے آبائی مقبرے میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوئوں کے یاد میں ترال میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہیادھر نمائندے کے مطابق ترال میں بھی صبح سویرے نوجوانوں نے جاں بحق عسکریت پسندوں کے حق میں احتجاجی جلوس نکالا اور شاہراہ پر پہنچ گئے۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوئوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے حزب سے وابستہ کئی جنگجوئوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران عسکریت پسندوں کو سلامی بھی دی گئی ۔ تاہم پولیس ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔

Comments are closed.