Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
سرینگر /28مئی/سی این آئی نیشنل کانفرنس نے ریاست خصوصاً وادی کشمیر میں بے چینی کے مسلسل حالات جاری رہنے پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے معاون اور سابق وزیر ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اہل کشمیر گزشتہ اڈھائی سالوں سے ایک درد ناک اور ناگفتہ بہہ دور سے گزر رہے ہیں لوگ ایک طرف اقتصادی بدحالی اور مالی بدحالی کے شکار ہوتے جا رہے ہیں دوسری طرف ریاست میں سیاسی خلفشار ی اور انتشاری کے شکار بھی ۔ عوام ہر سطح پر عدم تحفظ کے شکار اور مصیبتوں و مشکلات سے دو چار ہے ۔ انتظامیہ مکمل طور پر پہلے ہی مفلوج اور موجودہ غیر سنجیدہ اور عوام دشمن سرکار ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے ۔ لوگوں کو کوئی پرسان نہیں البتہ ریاست کے موجودہ حکمران ناگپور کے ڈکٹیشن پر رات دن کام میں مصروف ہے ۔ ملک کی طرح ریاست میں بھی فرقہ پرستوں کا جال ہر سوں چھایا جارہا ہے لوگوں میں فرقہ پرست اور نا اہل حکمرانوں کے خلاف دلوں میںنفرت کی آگ دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق موجودہ مخلوط حکومت کے غلط فیصلوں اور کشمیر دشمن پالسیوں کی وجہ سے ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا گیا جس کی نشان دہی پہلی ہی نیشنل کانفرنس نے لوگوں کو آگاہ کیا تھا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کا اتحاد ریاست کی تباہی اور بربادی کا سامان ثابت ہوگااور یہ اقتدار ریاست کی رہی سہی آئینی اور جمہوری ساکھ کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کی بدترین کڑی فڈ بل اور اس سے قبل خواتین حقوق شہریت بل وغیرہ شامل ہے ۔ قلم دوات والوں نے ریاست کے لوگوں کی مفادات اور احساسات کا سودا کر کے دہلی قیادت کے سامنے سرنڈر کیا ہے اور موجودہ سرکار بھی اب ان کے ہی رحم وکرم پر قائم دائم ہے کیونکہ موجودہ خاتون وزیر اعلیٰ اور اس کے حواریوں نے پہلے عوامی منڈیٹ کھو ڈالا ہے اور لوگوں میں نفی بھر ساکھ بھی نہ رہی پورا جنوبی کشمیر گزشتہ ایک سال سے ظلم وتشدد ، جبرو استبداد اور قتل و غارت گاہ بنی ہے اور نوجوانوں کی نسل کشی ہر سو جاری لوگوں میں دہشت خوف گرفتاریاں جاری لیکن اس کا انجام اس سرکار کا خاتمہ ہی ہوگا ۔ کیونکہ ظلم وستم ، تشدد انجام ہی رسوای اور شکست ہوتا ہے ۔ لوگ نہایت صبر کر رہے ہیں اور انشاء اللہ صبر کا پھل میٹھا اور پائدار ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے ریاست کی سرکار کو خبردار کیا کہ وہ اپنے دہلی آقاؤں کے اشارروں پر ریاست خصوصاً وادی میں نوجوانوں کی نسل کشی بند کردی اور تمام طبقوں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کی جائے تاکہ ریاست میں امن وامان کا فضا لوٹ آئے ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بدقسمتی سے مرکزی قیادت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ودائم ہے جس کی وجہ سے ریاست میں دن بہ دن امن وقانون کے حالات بگڑتے جارہے ہیں لوگوں پر ظلم وستم حراساں طاقت کا بے جا استعمال جاری رہنے سے اہل کشمیر کو دہلی والوں پر مکمل بھروسہ اُٹھ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ریاست کی کمان ناگپور آقاوں کے ہاتھوں میں ہے جو ریاست میں فرقہ پرستی کو عروج دیکر ریاست کی اکثریت کو بانے کے ناپاک حربے استعمال کر رہے ہیں ۔ جس کی عکاسی بی جے پی کے صدر امت شا کے بیانات اور مرکز میں بے جی پے کے بعض سینئر وزراء اور لیڈران دیتے رہتے ہیں۔ لیکن کشمیری عوام ان کشمیر دشمن طاقتوں کو بخوبی واقف ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سے ان کشمیر دشمن عناصروں کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائے گے البتہ ہمیں متحد ہور اس کے لئے جدو جہد کرنی چاہئے ۔ انہوں نے ریاست میں گورنر راج کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے اور ساتھ ساتھ ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں سے پُر زور اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پہل کریں ۔ تاکہ جنوبی کشمیر ، برصغیر خصوصا ًریاست میں امن کا فضاء لوٹ آئیں ۔ انہوں نے ریاست میں موجودہ تباہ کن حالات کی طرف مرکز کی غفلت شعاری اور بے بسی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بہت سارے مذاکرات لیڈران نے پہل کی اور ریاست کے مزاحمتی رہنماؤں کے ساتھ بھی بات چیت شروع کی اور اس کا رپورٹ بھی صدر ہند اور وزیر اعظم کو بھی پیش کیا لیکن آج تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔ جبکہ کشمیری عوام ایک فوجی چھاونی میں زندگی گزار رہے ہیں اور اہل کشمیر کے ساتھ کالونی جیسے سلوک کیا جارہا ہے جسکی پُر زور مزمت کی جاتی ہے ہمارے ساتھ جو وادی تحریری طور پر کئے گئے ان پر فوری طور عمل کیا جائے اور ریاست کے لوگوں کو وہ جمہوری اور آئینی حقوق واپس کیا جائے جو 9اگست 1953 کے بعد دہلی میڈ سرکاروں کے ذریعے چین لئے گئے ۔ جن خصاً ریاست کو دی گئی اندروانی خود مختاری ، دفعہ 370 کے تحت آئنی اور جمہوری مراعات ،1952 پوزیشن اور دہلی اگریمنٹ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کشمیرویوں کے آستین کے سانپ ثابت ہوئی پی ڈی پی کا دور ریاست کے لوگوں کے لئے منحوس ثابت ہوا اور افسوس اس بات کا اہے کہ رمضان المبارک کے پہلے مقدس دن پر کرفیوں کا نفاذ ، خونینی واقعات پیش اور گزشتہ ڈھائی سال دوران کتنے ہمارے وم کے مستقل کے نوجوانوں کو شہید کیا گیا ہزاروں جسمانی طور ناخیز م آنکھوں کی بینائی سے محروم اور سینکروں بے گناہ نوجوانو پر پی ایس لگایا گیا ۔ لیکن یہ ظلم و ستم کا دور بھی اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہوکر ہی رہے گا۔انہوں نے لوگوں سے پایل کی وہ کشمیر دشمن عناصروں کے خلاف یک زبان ہوکر ان کے ناپاک عزائم بند کرنے کی اپیل کی ۔
Comments are closed.