سیمو ترال میں حزب کمانڈر اور اُس کا ساتھی جھڑپ کے دوران جاں بحق ، جھڑپ کی جگہ شدید جھڑپوں کے دوران ایک عام شہری گولی لگنے سے ہلاک درجنوں زخمی

جنوبی ، شمالی ، وسطی کشمیر کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر میں پُر تشدد جھڑپیں ، ہوائی اور پلیٹ فائرنگ سے درجنوں مضروب ، کئی ایک کی حالت اسپتال میں ن

سرینگر؍27؍مئی؍ جے کے این ایس؍؍ سیمو ترال میں خونریز جھڑپ کے دوران حزب کمانڈر اور اُس کا ساتھی جاں بحق ، نصف درجن رہائشی مکان زمین بوس ۔ عسکریت پسندوں کو مارگرانے کیلئے رہائشی مکان پر ماٹر گولوں کی برسات کی گئی جس کی وجہ سے دونوں عسکریت پسند جاں بحق ہوئے ۔ سیمو ترال میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے راست فائرنگ کی جس کی وجہ سے ایک جواں سال نوجوان سر میں گولی لگنے سے موقعے پر ہی جاں بحق ہوا جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے 10کے قریب افراد کو سرینگر منتقل کیا گیا ۔پولیس ترجمان کے مطابق کراس فائرنگ میں عام شہری جاں بحق ہوا ہے۔ حزب کمانڈر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وادی کے اطراف واکناف میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس دوران فورسز نے پلیٹ چھروں کا استعمال کیا ۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ، ترال ، کولگام ، شوپیاں ، اننت ناگ ، ڈورو ، قاضی گنڈ کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے سوپور ، بارہ مولہ ، بانڈی پورہ ، پلہالن پٹن ، حاجن میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔ وسطی ضلع بڈگام ، چاڈورہ میں جلوس میں شامل افراد کو منتشر کرنے کیلئے اشک آورگیس کے گولے داغے گئے ۔ شہر سرینگر کے مائسمہ ، نوہٹہ ، گوجوارہ ، رعناواری ،عید گاہ اور صورہ میں بھی مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم آرائیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔ پولیس سربراہ ، دفاعی ترجمان کے مطابق ترال میں جھڑپ کے دوران حزب کمانڈر اور اُس کا ساتھی جاں بحق ہوا ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق حزب کمانڈر کی ہلاکت سے جنوبی کشمیر میں عسکری تنظیم کو بہت بڑادھچکا لگا ہے۔ جے کے این ایس نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس وفورسز نے گزشتہ رات سیمو ترال گاؤں کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان رات کی تاریکی میں آمنا سامنا ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں حزب کمانڈر سبزار احمد بٹ زخمی ہوا اور اُس نے رہائشی مکان میں پناہ حاصل کی ۔ نمائندے کے مطابق پولیس وفورسزکی مزید کمک طلب کرکے سیمو ترال گاؤں کو پوری طرح سے سیل کرنے کے بعد رات کے دوران آپریشن کو موخر کیا گیا ۔ نمائندے نے مزید بتایا کہ سنیچر صبح سویرے رہائشی مکان میں محصور عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا جس دوران جنگجوؤں کو مار گرانے کیلئے فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولوں کی برسات کی تاہم چھپے بیٹھے عسکریت پسند وں نے دوسرے رہائشی مکان میں پناہ لی اور فورسز پر گولیاں برساتے رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے دوسرے رہائشی مکان پر بھی گولے برسائے جس کے نتیجے میں بیک وقت تین رہائشی مکانات سے آگ کے شعلے بلند ہوئے تاہم جنگجوؤں نے تیسرے رہائشی مکان میں پناہ حاصل کی جس کے ساتھ ہی فورسزنے رہائشی مکان کو محاصرے میں لے کر اندھا دھند فائرنگ اور ماٹر گولے داغے جس کے بعد جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم گیا ۔ نمائندے نے دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فوج نے خصوصی گاڑیوں کے ذریعے رہائشی مکان کے ملبے سے دو عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی جن کی بعد میں شناخت معروف حزب کمانڈر سبزار احمد بٹ اور اُس کے قریبی ساتھی فیضان احمدساکنان ترال کے بطور ہوئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ رات بھر لوگوں کی کثیر تعداد نے سیمو ترال جانے کی کوشش کی تاہم پانچ دائروں والی سیکورٹی تعینات ہونے کے باعث وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ رات بھر سیمو ترال کے نزدیکی علاقے میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں جس دوران کئی افراد زخمی ہوئے ۔ صبح دس بجے کے قریب سبزار احمد کو جاں بحق کرنے کی خبر پھیلتے ہی شمال و جنوب میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ نمائندے کے مطابق ترال سے لوگوں کی کثیر تعداد نے سیمو گاؤں کی طرف پیش قدمی شروع کی تاہم اس دوران مظاہرین کو روکنے کیلئے فورسز نے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیمو ترال کے نزدیک اُس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب جلوس میں شامل لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد خون میں لت پت ہو گئے ۔ نمائندے کے مطابق زخمیوں کو فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے عاقب احمد ساکنہ ترال کو مردہ قرار دیا ۔جونہی جواں سال نوجوان کی نعش اُس کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں مرد و زن، بوڑھے اور بچوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے اور فورسز پر شدید پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق رٹھسنہ ترال میں بھی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حزب کمانڈر کی ہلاکت کے ساتھ ہی ڈورو ،مٹن اننت ناگ میں لوگوں کی کثیر تعداد نے احتجاجی جلوس نکالا اور ترال کی طر ف پیش قدمی شروع کی اس دوران پہلے سے تعینات پولیس وفورسز نے مظاہرین کا راستہ روکا جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور انہوں نے پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے یہاں پر شدید پلیٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈیڑھ درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک لڑکے کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق نوجوان کے سر میں پلیٹ چھرے پیوست ہوئے ہیں اور اُس کی حالت صدر اسپتال میں نازک بنی ہوئی ہے۔ قاضی گنڈ میں بھی نوجوانوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے باعث قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ نمائندے کے مطابق قاضی گنڈ میں اُس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب ایک نجی گاڑی پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے اور انہیں بھی سرینگر منتقل کیا گیا ۔ جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں بھی جگہ جگہ نوجوانوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور ترال کی طرف پیش قدمی شروع کی تاہم پہلے سے تعینات فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے جگہ جگہ اشک آور گیس کے گولے داغے۔ شوپیاں کے ساتھ ساتھ دوسرے دیہی علاقوں میں بھی پُر تشدد مظاہروں کی برابر اطلاعات موصول ہو رہی ہے۔ شوپیاں سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ نوجوانوں نے سبزار احمد کے حق میں احتجاجی جلوس نکالا جس دوران مظاہرین نے فورسز پر بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی ۔ نمائندے کے مطابق مظاہرین اور لوگوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ ادھر لاسی پورہ میں موجود 55آر آرفورسز کیمپ پر مشتعل ہجوم نے دھاوا بول کر شدید پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے فورسز نے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے لاسی پورہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں کے لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے ۔ نمائندے کے مطابق فورسز اورمظاہرین کے درمیان کئی گھنٹوں تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔نیوا پلوامہ میں بھی لوگوں کے بڑے ہجوم نے 183بٹالین سی آر پی ایف کیمپ پر شدید پتھراو کیا اس دوران پولیس وفورسز نے اہلکاروں نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی ۔ سبزار احمد کی ہلاکت کے بعد جنوبی کشمیر میں زبردست کشیدگی پائی جار ہی ہے ، فورسز کیمپوں اور پولیس اسٹیشنوں میں تعینات اہلکار وں کو متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ۔نمائندے نے وسطی ضلع بڈگام سے اطلاع دی ہے کہ حزب کمانڈر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی چاڈورہ ، کرالہ پورہ میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور فورسز پر پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق فورسز نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس اور پاوا شلنگ کی جس کی وجہ سے چاڈورہ ، چرار شریف شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ چاڈورہ پُل پر مظاہرین اور فورسز کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا جس دوران کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ دریں اثنا پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے بتایا کہ ترال میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران حزب کمانڈر سبزار احمد اور اُس کے ساتھی کو مار گرایا گیا ہے۔ پولیس سربراہ کے مطابق جنگجو کمانڈر کی ہلاکت سے حزب المجاہدین کو بہت بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ ادھر پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات سیمو ترال میں 42آر آر کی پیٹرولنگ پارٹی پر جنگجوؤں نے فائرنگ کی ۔ پولیس ترجمان کے مطابق فوج نے بھی جوابی کارروائی شروع کی اس دوران دو جنگجو رہائشی مکان میں پھنس کر رہ گئے ۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپ کے بعد دو عسکریت پسند جن کی شناخت فیضان مظفر اور سبزار احمد کے بطور ہوئی ہے جاں بحق ہوئے ۔ پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ کراس فائرنگ میں ایک عام شہری زخمی ہوا اگر چہ اُس کو فوری طورپر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

Comments are closed.