سری نگر میں جاری مسلح تصادم میں ایک سی آر پی ایف کانسٹیبل ہلاک

سری نگر: جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے کرن نگر علاقہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) بٹالین ہیڈکوارٹر کے نذدیک ایک کمرشل بلڈنگ میں محصورجنگجوو ¿ں اور سیکورٹی فورسز کے مابین مسلح تصادم جاری ہے۔ مسلح تصادم میں تاحال ایک سی آر پی ایف کانسٹیبل ماجد خان ہلاک جبکہ ریاستی پولیس کا ایک کانسٹیبل زخمی ہوگیا ہے۔ زخمی پولیس اہلکار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ جنگجوو ¿ں کی طرف سے یہ حملہ جموں میں سنجوان ملٹری اسٹیشن پر فدائین حملے کے دو دن بعدکیا گیا ہے۔ جنگجو تنظیم لشکر طیبہ کے مطابق بلڈنگ میں محصور جنگجوو ¿ں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے ۔ انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے پورے ضلع سری نگر میں تیز رفتار والی تھری جی اور فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرائی ہیں۔ مسلح تصادم کے مقام پر جنگجوو ¿ں کی حمایت میں سامنے آنے والے احتجاجیوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ ایک سینئر سی آر پی ایف افسر نے مسلح تصادم کے مقام پر موجود نامہ نگاروںکو بتایا کہ پیر کی علی الصبح چار بجکر 45 منٹ پر 23 بٹالین سی آر پی ایف کیمپ میں سنتری ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں نے جنگجوو ¿ں کے ایک گروپ کو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے کہا ’جب جنگجوو ¿ں کو للکارا گیا تو وہ نذدیکی بلڈنگ میں داخل ہوئے‘۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ نے فوری طور پر علاقہ کو گھیرے میں لیکر جنگجوو ¿ں کو ایک عمارت تک محدود کردیا۔ انہوں نے کہا ’سیکورٹی فورسز اور جنگجوو ¿ں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ صبح کے ساڑھے نو بجے شروع ہوا۔ طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے‘۔ سی آر پی ایف کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ میں 49 بٹالین سی آر پی ایف کانسٹیبل ماجد خان شدید طور پر زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا ’وہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا‘۔ ریاستی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مسلح تصادم میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا ’مسلح تصادم میں ریاستی پولیس کا اہلکار بھی زخمی ہوا۔ اس کا علاج ومعالجہ شروع کیا گیاہے‘۔ مسلح تصادم کے پیش نظر کرن نگر اور میڈیکل کالج روڑ کو بند کیا گیا ہے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے سی آر پی ایف کو فدائین حملہ ناکام بنانے کے لئے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’میں فدائین حملہ ناکام بنانے کے لئے سی آر پی ایف کے سنتریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دو جنگجوو ¿ں کو محاصرے میں لیا گیا ہے۔ طرفین کے مابین فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے‘۔ یہ مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال سے پاکستانی جنگجو نوید جٹ کے فرار ہونے کے واقعہ کے بعد سری نگر میں پہلا مسلح تصادم ہے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ مسلح تصادم کا مقام ایس ایم ایچ ایس اسپتال سے محض دو سو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ دریں اثنا انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے سری نگر میں تیز رفتار والی انٹرنیٹ خدمات منقطع کرائی ہیں۔ مسلح تصادم کے مقام پر کچھ نوجوان جنگجوو ¿ں کی حمایت میں سامنے آکر آزادی حامی نعرے بازی کرنے لگے۔ تاہم سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کرکے انہیں منتشر کیا۔ یو اےن آئی

Comments are closed.