جموں حملے کیلئے روہنگیا پناہ گزینوں کو ذمہ دار ٹھہرانا بی جے پی کا ’تقسیم کرو اور حکومت کرو فارمولہ‘: آزاد
جموں:کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈران کی طرف سے سنجوان ملٹری اسٹیشن پر فدائین حملے کے لئے جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا محض ایک شوشہ اور فارمولہ ہے جس کا مقصد ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس کوئی کشمیر اور پاکستان پالیسی نہیں ہے۔
مسٹر آزاد نے یہ باتیں اتوار کو یہاں کانگریس کے ایک اجلاس کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات گفتگو کرتی ہوئی کہیں۔ جب ایک نامہ نگار نے ان کو سنجوان حملے میں روہنگیا مسلمانوں کے ملوث ہونے کے بارے میں بی جے پی لیڈران کی بیان بازی پر تاثرات مانگے تو مسٹر آزاد نے کہا ’یہ بی جے پی کا بنایا ہوا ایک شوشہ ہے۔
ہمارے پاس ابھی تک کوئی ایسی اطلاع نہیں آئی ہے کہ کسی روہنگیا کو سیکورٹی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ روہنگیا کو ذمہ دار ٹھہرانا، بی جے پی کا تقسیم کرو اور حکومت کرو فارمولہ ہے۔ یہاں کوئی باہر کا آنا چاہیے یا نہ آنا چاہیے، وہ الگ ایشو ہے۔ لیکن یہ کہنا ہے کہ وہ ملی ٹنٹ ہیں، ایسا کبھی ثابت ہی نہیں ہوا ہے‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جموں وکشمیر میں جنگجویت کے لئے پاکستان، وہاں کی فوج اور حکومت کی جتنی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔
مرکزی سرکار میں بھی کمزوریاں ہیں۔ ان کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ہر ایک ہفتے فوجی تنصیبات پر حملے ہورہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرکزی سرکار ناکام ہوگئی ہے‘۔
یو این آئی
Comments are closed.