شوپیان فائرنگ واقعہ کی زخمی سائمہ وانی دم توڑ گئی، مہلوکین کی تعداد 6 پہنچی

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں 24 جنوری کو مسلح تصادم کے مقام پر سیکورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہرین پر مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں شدید طور پر زخمی ہونے والی جواں سال لڑکی 18 دنوں تک سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد گذشتہ رات دم توڑ گئی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 18 سالہ سائمہ وانی دختر ہلال احمد وانی ساکنہ ژھے گنڈ کو 17 روز تک اسپتال کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں زیر علاج رکھا گیا تھا۔ تاہم اسے جب گذشتہ روز اسپتال کے جنرل وارڈ میں منتقل کیا گیا تو وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ واضح رہے کہ ژھے گنڈ شوپیان میں 24 جنوری کو ہونے والے ایک مسلح تصادم میں دو مقامی جنگجو سمیر احمد ساکنہ ژھے گنڈ شوپیان اور فردوس احمد ساکنہ گنو پورہ شوپیان مارے گئے تھے۔ دونوں مہلوک جنگجو ’حزب المجاہدین‘ سے وابستہ تھے۔ 18 دنوں بعد اسپتال میں دم توڑنے والی سائمہ وانی مہلوک جنگجو سمیر احمد وانی کی بہن تھی۔ مسلح تصادم کے مقام پر جنگجوو¿ں کی حمایت میں سامنے آنے والوں پر سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر براہ راست گولیاں اور چھرے چلائے تھے جس کے نتیجے میں 17 سالہ شاکر احمد میر ساکنہ کلام پورہ شوپیان جاں بحق جبکہ سائمہ سمیت دو لڑکیاں زخمی ہوئی تھیں۔ سائمہ کے ساتھ زخمی ہونے والی دوسری لڑکی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ تاہم جموں وکشمیر پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا تھا کہ شاکر احمد کی موت کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے ہوئی ۔ انہوں نے شاکر کی ہلاکت اور دو لڑکیوں کے زخمی ہونے کے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کیا تھا۔ مسلح تصادم کے ایک روز بعد یعنی 25 جنوری کو ژھے گنڈ میں بارودی مواد سے اڑائے گئے مکان کا ملبہ ہٹانے کے دوران ایک باروی شیل پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 10 سالہ مشرف فیاض شدید طور پر زخمی ہوا تھا۔ شدید طور پر زخمی ہونے والا کمسن مشرف سات دنوں تک سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد یکم فروری کو دم توڑ گیا تھا۔ بارودی شیل کے پھٹنے سے مشروف کے سر اور چہرے پر سنگین چوٹیں آئی تھیں۔ 18 سالہ سائمہ وانی کی موت ہوجانے کے ساتھ شوپیان میں جنوری کے آخرے ہفتے میں پیش آنے والے فائرنگ کے دو مختلف واقعات کے مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 5 سیکورٹی فورسز کی احتجاجی مظاہرین پر مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔ ژھے گنڈ مسلح تصادم کے محض تین روز بعد یعنی 27 جنوری کو فوجی اہلکاروں نے گنوپورہ شوپیان میں احتجاجی نوجوانوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول کر دو جواں سال نوجوانوں کو موقع پر ہی ہلاک جبکہ 9 دیگر کو زخمی کردیا۔شدید زخمیوں میں سے ایک نوجوان 31 جنوری کو شیر کشمیر انسٹی چیوٹ میں دم توڑ گیا۔ مہلوک نوجوانوں جاوید احمد بٹ ، سہیل جاوید لون اور رئیس احمد گنائی کی عمر 20 سے 25 برس کے درمیان تھی۔ دفاعی ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے سیلف ڈیفنس یعنی اپنے دفاع میں گولیاں چلائی تھیں۔ جموں وکشمیر پولیس نے فائرنگ کے اس واقعہ کے سلسلے میں ایک فوجی یونٹ کے خلاف 302 (قتل)، 307 (قتل کی کوشش) اور 336 (زندگی کو خطرے میں ڈالنے)کی دفعات کے تحت پولیس تھانہ شوپیان میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ مذکورہ ایف آئی آر میں فوج کی 10 گڈوال کے میجر ادتیہ اور ان کے یونٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔ ریاستی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کے شدید احتجاج کے باوجود وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے تحقیقات 20 دنوں کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ محترمہ نے 29 جنوری کو قانون ساز اسمبلی میں شوپیان فائرنگ واقعہ کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کو مقررہ مدت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک ادارہ ہے اور ایف آئی آر کی اندراج سے اس کا حوصلہ پست نہیں ہوگا۔ ان نے کہا کہ ہر ادارے میں کچھ کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’شوپیان میں پیش آئے بدقسمت واقعہ میں انسانی جانوں کے زیاں پر بہت رنج اور افسوس ہوا۔ میں نے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے تحقیقات 20 دنوں کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ میں متاثرین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں‘۔ ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ محترمہ مفتی نے شوپیان فائرنگ کا واقعہ مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کے ساتھ اٹھایا جنہوں نے وزیر اعلیٰ کو یقین دلایا کہ وہ اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ طلب کر کے متعلقین پر زور دیں گی کہ موجودہ لائحہ عمل پر سختی سے عمل کرے تا کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ یو اےن آئی

Comments are closed.