جنگجو فراریت کا معمہ،سینٹرل جیل سرینگر کے سپرانٹنڈنٹ معطل

سرینگر/۸ فروری/صدر اسپتال سے زیر حراست لشکر کمانڈر کے فرار کا انتہائی سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے سینٹرل جیل سرینگر کے سپرانٹنڈنٹ ہلال احمد راتھرکی فوری معطلی عمل میں لاتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی مکیش کمار ککر کو جیل کا نیا سپر انٹنڈنٹ مقرر کیا ہے ۔اس کے علاوہ جیل عملے کے دیگر کئی ارکان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

باوثوق ذرائع سے کے ا یم ا ین کو معلوم ہوا ہے کہ سرینگر کے صدر اسپتال میں6جنوری منگل کے روز جنگجوﺅں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور اس دوران لشکر جنگجو نوید جٹ عرف ابو حنظلہ کے فرار کا پولیس قیادت نے انتہائی سخت نوٹس لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران اس واقعہ کے حوالے سے سینٹرل جیل سرینگر کے حکام کی لاپرواہی کا معاملہ بھی سامنے آیا جس کے تناظر میں جیل کے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے بطور سینٹرل جیل سرینگر کے سپرانٹنڈنٹ کو معطل کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔

اس ضمن میں ریاستی محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری آر کے گوئل کی طرف سے جاری کئے گئے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ 6فروری2018کو ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر میں پیش آئے واقعہ جس میں پولیس کے دو اہلکار مارے گئے اور ایک جنگجو فرار ہوگیا، کی تحقیقات مکمل ہونے تک سینٹرل جیل سرینگر کے سپرانٹنڈنٹ ہلال احمد راتھرکی فوری معطلی عمل میں لائی جاتی ہے۔

حکمنامے کے مطابق ہلال احمد راتھر کواگلے احکامات تک ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات کے دفتر کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔ذرائع نے کے ایم ا ین کو بتایا کہ پرنسپل سیکریٹری ہوم آر کے گوئل کی طرف سے ہی جاری کئے گئے ایک اور آرڈر کے مطابق سینٹرل جیل سرینگر کےلئے نئے جیلر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ایس پی پولیس کمپوننٹ اننت ناگ مکیش کمار ککر کی خدمات فوری طور محکمہ جیل خانہ جات کے حد اختیار میں دی جاتی ہیں، ان احکامات کے تناظر میں مکیش کمار کی سینٹرل جیل سرینگر کے نئے سپر انٹنڈنٹ کی حیثیت سے تعیناتی عمل میں لائی جاتی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر اپنا نیا عہدہ سنبھالا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لشکر جنگجو کے فرار کے سلسلے میں جیل کے اندر کی گئی چھان بین کے دوران کئی دیگر اہلکاروں کی لاپرواہی کے اشارے مل ہیں جس کی بناءپر کئی اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جبکہ کچھ ایک کی ذمہ داریاں فوری طور تبدیل کی گئی ہیں۔

Comments are closed.