صدر اسپتال واقعہ بڑی حفاظتی کوتاہی کا شاخسانہ:ایس پی وید

سرینگر/۸ فروری/پاکستانی جنگجونوید جٹ کے فرار کا منصوبہ سینٹرل جیل سرینگر کے اندر مرتب کئے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایس پی وید نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ واقعہ ایک ”بڑی حفاظتی کوتاہی “ کا شاخسانہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو جیل میں کسی سازش کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد ابو حنظلہ کو وادی سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عدالت نے اس پر حکم امتناعی جاری کیا۔ڈی جی پولیس کے مطابق اس واقعہ کی پولیس چھان بین کے ساتھ ساتھ مجسٹیرئل انکوائری بھی عمل میں لائی جائے گی ۔

ریاستی پولیس کے سربراہ نے منگل کو صدر اسپتال سرینگر میں پیش آئے واقعہ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم سوالوں کے جواب دئے۔انہوں نے کہا کہ جنگجوﺅں کا حملہ اور اسی کے ساتھ ہی جنگجو کا فرار ہونا نہ صرف ایک منظم اور اچھے طریقے سے مرتب اور انجام دیا گیا منصوبہ تھا بلکہ اس سے سیکورٹی سیٹ اَپ میں موجود چھید بھی ظاہر ہوا ہے۔انہوں نے کہا”نوید کا فرار ہونا ایک بڑا سیکورٹی بریچ ہے“۔ڈی جی پولیس کا کہنا تھا”ایک ایس پی کی قیادت میں خصوصی تفتیشی ٹیم(SIT) تشکیل دی گئی ہے جو واقعہ کی تحقیقات کرے گی،میرے خیال میں اس حملے اور جنگجو کے فرار ہونے کے بارے میں حقائق کا پتہ لگانے کےلئے مجسٹیرئل انکوائری کے احکامات بھی صادر کئے جارہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میںڈاکٹر ایس پی وید نے یہ بات زور دیکر کہی کہ سینٹرل جیل سرینگر میں کسی کی ملی بھگت کے بغیر ایسی واردات انجام دینا نا ممکن ہے ۔ اس ضمن میں ان کا کہنا تھا”یقینا!جیل میں موجود کوئی شخص اس میں ملوث ہے ، یہ ایک منصوبہ بند فرار تھا جس کی سازش جیل کے اندر رچی گئی ، ایسا اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ ابو حنظلہ جیسے جنگجو کمانڈر کو دیگر غیر مقامی جنگجوﺅں کی طرح بیرون وادی کسی جیل کے بجائے سرینگر کی سینٹرل جیل میں کیوں رکھا گیا؟ڈی جی پولیس نے کہا کہ مذکورہ جنگجو کو عدالتی احکامات پر سرینگر منتقل کیا گیا تھا، حالانکہ تمام پاکستانی جنگجوﺅں کو ایک پالیسی کے تحت کشمیر سے باہر رکھا جاتا ہے۔اس بارے میں ڈاکٹر ایس پی وید نے مزید کہا”ہمیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ پاکستانی جنگجو سینٹرل جیل سرینگر میں کوئی سازش رچ رہے ہیں ، ہم نے اسے وادی کے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے عدالت سے حکم امتناعی جاری کروانے میں کامیابی حاصل کی“۔

اسی سے جڑے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا”اب وہ صرف پولیس کےلئے ہی خطرہ نہیں ہے بلکہ وہ ہر ایک بشمول جوڈیشری کےلئے ایک خطرہ ہے “۔انہوں نے کہا ” پاکستانی جنگجو جو مارنے یا مرنے کےلئے کشمیر آتے ہیں،یہاں کے سسٹم اور اس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں“۔

Comments are closed.