فیئر پرائس شاپس کی الاٹمنٹ پر اسمبلی میں ہنگامہ
سرینگر/۷ فروری/ محکمہ امور صارفین کی طرف سے فیئر پرائس شاپس کی الاٹمنٹ میں مبینہ ہیرا پھیری کو لیکراپوزیشن نیشنل کانفرنس کے ممبران نے بدھ کو قانون ساز اسمبلی میںزوردار ہنگامہ کرتے ہوئے پرانی فہرست فوری طورمنسوخ کرکے یہ عمل از سر نو شفاف طریقے سے انجام دینے کا مطالبہ کیا۔محکمے کے وزیر نے بتایا کہ ممبران اسمبلی کی مرتب کردہ فہرستیں ان کے حلقوں کے لوگوں کو بھی قابل قبول نہیں ہیں۔
کے ایم ا ین کے مطابق بدھ کی صبح جب اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر احتجاج کرنے لگے۔وہ حکومت سے اس بات کی وضاحت مانگ رہے تھے کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی طرف سے فیئرپرائس شاپس کی الاٹمنٹ کےلئے کس طرح کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اور کس طرح کے قواعد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں؟اپوزیشن ممبران احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کی میز کے سامنے جمع ہوئے اورالزام عائد کیا کہ حکومت نے یہ شاپس اپنے ”وفاداروں“ میں الاٹ کی ہیں۔
این سی ممبران نے فیئر پرائس شاپس کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے نئی فہرست مرتب کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے ایوان میں ہنگامہ بپا ہوا اور کارروائی میں خلل پڑاجس دوران اسپیکر کویندر گپتا احتجاجی ممبران سے خاموش رہنے کی اپیل کرتے رہے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور احتجاج جاری رکھا۔اس موقعے پر اپوزیشن ارکان اُس وقت آگ بگولہ ہوگئے جب امور صارفین اور عوامی تقسیم کاری کے ریاستی وزیر چودھری ذوالفقار علی نے احتجاجی ممبران کو بتایا کہ ممبران اسمبلی کی طرف سے تجویز کردہ فہرستیں ان کے حلقے کے لوگوں کےلئے بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق اس پراپوزیشن ممبران نے زیادہ شو رمچایا اور کہا کہ یہ الاٹمنٹ ان کی جانکاری کے بغیر عمل میں لائی گئی ہے۔
اس موقعے پر اپوزیشن لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امور صارفین کے وزیر سے کہا کہ وہ پرانی فہرست منسوخ کرکے شفاف طریقے پر نئی فہرست مرتب کریں۔انہوں نے چودھری ذوالفقار علی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا”اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ شاپس شفاف انداز میں چالو کی جائیں گی تو پرانے تمام آرڈر منسوخ کیجئے “۔ ایوان میں اپوزیشن ممبران کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے باعث معمول کی کارروائی کچھ دیر کےلئے ممکن نہیں ہوسکی۔
Comments are closed.