کشمیری پنڈتوں نے خود ترک سکونت اختیار نہیں کی:جاوید مصطفےٰ میر
سرینگر/۷ فروری/ریاستی وزیر جاوید مصطفےٰ میر نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈت خود ترک سکونت نہیں کرگئے بلکہ عدم تحفظ کے احساس اور خوف و دہشت کے ماحول نے انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
کے ایم ا ین کے مطابق قانون ساز کونسل میں بی جے پی سے وابستہ ایم ایل سی گرداری لعل رینا کی ایک نوٹس پر ہوئی بحث کو سمیٹتے ہوئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ، امداد، باز آبادکاری اور تعمیر نو کے ریاستی وزیر جاوید مصطفےٰ میر نے بتایا کہ کشمیری پنڈت حالات کی وجہ سے ترک سکونت کرنے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے زور دیکر کہا”میں دل کی عمیق گہرائی سے یہ بات ایوان کے ریکارڈ پر کہنا چاہتا ہوں کہ وہ(کشمیری پنڈت) مخصوص قسم کی صورتحال کے نتیجے میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے“۔ان کا مزید کہنا تھا”کشمیری پنڈت بھاگے نہیں!کچھ لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ خود گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے ، میں یہ بات اب صاف کرکے اس پر ہورہی بحث کو ختم کرنا چاہتا ہوں“۔
انہوں نے کہا کہ اُن دنوں وادی میں خوف و دہشت کا ماحول تھا اور پنڈتوں کے مسلم پڑوسی بھی بقول ان کے نشانے پر تھے۔وزیر موصوف نے بتایا ”لوگ قتل ہورہے تھے، ہم(پنڈتوں کے پڑوسی) یہ محسوس کررہے تھے کہ ہم ان کی حفاظت نہیں کرسکتے، اس لئے وہ خود کو بچانے کےلئے وادی چھوڑ کر چلے گئے، بات ان کی زندگی کے تحفظ کی تھی“۔
جاوید مصطفےٰ میر نے کہا کہ پنڈت برادری نے انتہائی سخت حالات کا سامنا کیا ہے ۔اس بارے میں ان کا کہنا تھا”اتنے سال گزرنے کے باوجود پنڈت برادری انتہائی ذہنی تناﺅ سے جھوج رہی ہے ، ایک وزیر کی حیثیت سے میرا یہ ماننا ہے کہ ان کی بازآبادکاری کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے ، اگر ہم انسانی اپروچ کے ساتھ ان تک نہیں پہنچتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بازآبادکاری کی پالیسی مکمل طور ناکام ہوگئی“۔
انہوں نے کہا کہ وادی کے اندر کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کےلئے ایک مختلف اپروچ اختیار کیا جائے گا۔وزیر موصوف نے کہا”کشمیری پنڈتوں نے وادی کشمیر کو تمام شعبوں میں بہت کچھ دیا ہے جس کےلئے ہمیں ان کا مقروض ہونا چاہئے“۔میر نے مزید کہا کہ حکومت نے وزیر اعظم کے مائیگرنٹ روزگار پیکیج کے تحت3000اسامیاں پر کی ہیںجبکہ مزید2575اسامیاں بھرتی کےلئے متعلقہ ایجنسی کو بھیج دی گئی ہیں۔
Comments are closed.