کشمیر کی صورتحال بدترین:کانگریس

سرینگر:کشمیر کی صورتحال کو ”بدترین“ قرار دیتے ہوئے سینئرکانگریس لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے صدر اسپتال سرینگر میں پیش آئے واقعہ کو پی ڈی پی بھاجپا مخلوط سرکار کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔غلام نبی آزاد نے یہ مسئلہ راجیہ سبھا میں اٹھایا اور ریاست کی سیکورٹی صورتحال پر مکمل بحث کرانے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ریاست اور ملک میں اچھا تاثر نہیں ملتا۔

مانیٹرنگ کے مطابق راجیہ سبھا میں اپوزیشن کانگریس پارٹی کے لیڈر غلام نبی آزاد نے بدھ کو ایوان میں وقفہ صفر کے دوران سرینگر کے صدر اسپتال میں منگل کو ہوئے حملے اور ایک جنگجو کمانڈر کے فرار ہونے پر ریاستی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے کہا کہ صدر اسپتال سے نوید جٹ عرف حنظلہ نامی جنگجو کا فرار ہونا ریاستی سرکار کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا”اس کا ریاست اور ملک میں اچھا تاثر نہیں ملتا، میں کب سے کہہ رہا ہوں کہ جموں کشمیر کی صورتحال بدترین ہے“۔غلام نبی آزاد نے ایوان میں واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا”منگل کو لشکر طیبہ کا جنگجو اُس وقت بھاگ جانے میں کامیاب ہوا جب اسے میڈیکل چیک اَپ کےلئے سینٹرل جیل سے ایس ایم ایچ ایس اسپتال لایا جارہا تھا“۔انہوں نے اسے20سال میں پیش آنے والا پہلا واقعہ قرار دیا اور کہا”ایسے واقعات کو نوے کی دہائی میں پیش آتے تھے، لیکن ان سے نہ ریاست اور نہ ہی ملک کے اندر اچھی عکاسی ہوتی ہے“۔

غلام نبی آزاد نے اسپتال منتقل کرتے وقت جنگجو کےلئے سخت حفاظتی پہرہ نہ بٹھانے کےلئے ریاستی حکومت پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کیا۔کے ایم این مانیٹرنگ کے مطابق اس بارے میں انہوں نے کہا”یہ حکومت کی غلطی ہے کیونکہ ایسے جنگجو کو مناسب حفاظتی بندوبست کے بغیر ہی اسپتال منتقل کیا گیا“۔ آزاد نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ”اسے(جنگجو کو) فوجی اسپتال لیجایا جاسکتا تھا، اسے ایس ایم ایچ ایس اسپتال کیوں لایا گیا؟یہ شہر سرینگر کے کرن نگر علاقے میں واقع ایک سُپر سپیشلٹی اسپتال ہے“۔

جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ کو ”بد قسمتی“ سے تعبیر کرتے ہوئے ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر ایوان میں مکمل بحث کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات سے نمٹنے کےلئے چوکسی کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتیں رونما نہ ہوں۔ انہوں نے کہا”حکومت گزشتہ دہائی کے مقابلے میں ریاست کی صورتحال بہترہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں“۔

Comments are closed.