مذاکرات اور افہام و تفہیم ریاست میں امن بحال کرنے کا واحد ذریعہ :ویری

جموں :ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے اندرونی علاقوںاورسرحدوں پر امن بحال کرنے کے لئے مذاکرات اور افہام و تفہیم ہی واحد ذریعہ ہے ۔
قانون ساز اسمبلی میں آج کئی ارکان نے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ ساتھ ریاست کے کچھ دیگر حصوں میں سرحد پار کی فائرنگ کے بڑھتے واقعات سے مال و جان کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا جس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ بات چیت اور افہام و تفہیم کے عمل سے ہی امن بحال کیا جاسکتا ہے۔
ویر ی نے کہاکہ 2003 ءمیں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی طرف سے شروع کئے گئے افہام و تفہیم کے عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست میں دیرپا امن قائم کیاجاسکے۔
وزیر موصوف نے راجوری اور پونچھ اضلاع میں کراس باڈر فائرنگ کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ضلع انتظامیہ مال و جان کے نقصان کو روکنے کو ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ آبادی کے لئے قیام و طعام کے متبادل انتظامات کئے گئے ہیں۔
سرحد پار کی فائرنگ کے حالیہ واقعات کی تفصیلات دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اتوار کور راجوری اور پونچھ ضلعوں میں ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی تازہ خلاف ورزی کے دوران ایک افسر سمیت چار فوجی اہلکار مارے گئے ۔اس کے علاوہ ان واقعات میں دو عام شہری اور ایک بی ایس ایف اہلکار سمیت تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
اے آر ویر ی نے کہاکہ راجوری میں اتوار کو ساڑھے نو بجے کو پاکستانی فوجیوں نے بالا کوٹ سیکٹر میں اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں رنسیکا گر گاﺅں کے کیپٹن کپل کنڈو ، گوالیار کے رائفل مین رام اوتار ، مکند پور کٹھوعہ کے رائفل مین سبھم سنگھ اور سانبہ کے حوالدار روشن لال موقعہ پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ فوجی جوان لانسنائیک اقبال احمد زخمی ہوگئے ۔
وزیر نے مزید کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے ایک اور واقعہ کے دوران بنڈی چچیان سیکٹر میں ایک فوجی جوان سپاہی کشور کمار اور یاسین عارف و گلناز اختر نامی دو شہری زخمی ہوئے ۔
ویر نے مزید جانکاری دی کہ جنگ بندی معاہدے کا ایک اور واقعہ سندر بنی میں بھی پیش آیا جہاں بی ایس ایف سے تعلق رکھنے والے اے ایس آئی اجب سنگھ زخمی ہوا جسے علاج ومعالجہ کے لئے آرمی ہسپتال ستواری میں داخل کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بھوانی اور لام سیکٹروں میں فائرنگ کے واقعے پیش آئے تاہم ان میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔
انہوںنے کہا کہ تاہم اسی دن سات بجکر پنتالیس منٹ پر دو اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا۔
اس سے پہلے حزاب اختلاف اور حز ب اقتدار سے تعلق رکھنے والے ارکان قانون سازیہ نے سرحدوں پر قمیتی جانوں کے زیاں تشوش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی سرکاروں پر زور دیا کہ وہ امن کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے نزدیک عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کریں۔
ایوان میں حز ب اختلاف کے لیڈر عمر عبداللہ نے اسمبلی کی طرف سے ایک قرار داد اختیار کرنے پر زور دیا جس میں ریاست جموں وکشمیرکے لوگ دونوں حکومتوں سے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تلقین کریں گے تاکہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ اندورنی ریاست میں بھی امن کو بحال کیا جاسکے۔

Comments are closed.