قانون ساز اسمبلی میں سرحدی کشیدگی پر ہنگامہ آرائی اور شدید نعرے بازی

جموں،:جموں صوبہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر مسلسل گولہ باری اور راجوری میں اتوار کی شام پاکستانی فائرنگ میں ایک کیپٹن سمیت 4 فوجیوں کی ہلاکت پر پیر کو جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جس کے دوران بی جے پی اراکین کی جانب سے ’پاکستان مردہ باد‘ جبکہ اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی جانب سے حکومت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ شدید ہنگامہ آرائی کے پیش نظر اسپیکر کویندر گپتا کو ایوان کی کاروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑی۔ پیر کی صبح جوں ہی ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے سرحدی کشیدگی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔ نیشنل کانفرنس کے رکن میاں الطاف احمد نے سرحدی کشیدگی پر بولتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس تشویشناک مسئلے پر بیان دینا چاہیے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ مسئلے پر وقفہ سوالات کے اختتام پر بیان دیا جائے گا۔ اس دوران بی جے پی کے شعلہ بیان ایم ایل اے رویندر رینا اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ سرحدوں پر مسلسل گولہ باری کے تناظر میں پاکستان کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی جانی چاہیے۔ تاہم اپوزیشن اراکین نے سرحدی کشیدگی کے لئے ریاستی اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ نیشنل کانفرنس رکن دیویندر سنگھ رانا احتجاج کرتے ہوئے ایوان چاہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا ’آپ کا 56 انچ سینہ کہاں ہے؟‘۔ رانا نے الزام لگایا کہ ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے سرحدی آبادی کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ رویندر رینا کی قیادت میں بی جے پی اراکین نے اس موقع پر ’پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے بلند کئے۔ پاکستان مخالف نعرے بازی کرنے والوں میں آزاد ممبر اسمبلی پون گپتا بھی شامل تھے۔ رانا نے بی جے پی اراکین سے کہا کہ اگر وہ پاکستان کے خلاف نعرے لگانے چاہتے ہیں تو وہ وہاں (پاکستان) جاکر لگائیں۔ اپوزیشن نے بی جے پی اراکین سے کہا کہ وہ فوجیوں کی لاشوں پر سیاست نہ کریں۔ این سی رکن علی محمد ساگر نے کہا ’آپ کو لاشوں پر سیاست کرنا بند کرنی چاہیے‘۔ اسپیکر کویندر گپتا نے شدید ہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان کی کاروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کی۔ ایوان کی کاروائی جب دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن نیشنل کانفرنس نے سرحدی کشیدگی پر حکومتی بیان کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن اراکین نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کے معاملے پر حکمران جماعت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے میں کمی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا ’جہاں بی جے پی سرحدی رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کررہی ہے، وہیں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اچھے رشتوں کی وکالت کررہی ہیں‘۔ تاہم پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ اپوزیشن کی تشویشات برحق ہیں۔ حکومت سرحدی کشیدگی کے معاملے پر بیان لیکر سامنے آئے گی۔ دریں اثنا این سی رکن رانا نے اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ سرحدی آبادی کو سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم نے سرحدوں پر جاری مسلسل گولہ باری کا مسئلہ ایوان میں اٹھایا۔ ہر روز ہمارے فوجی مارے جارہے ہیں اور سرحدی آبادی کو سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ حکومت سرحدوں پر جاری گولہ باری پر ایوان میں اپنا بیان دیں۔ ہم چاہتے تھے کہ حکومت ہمیں بتائیں کہ کشیدگی کو کم کرنے اور سرحدی آبادی کو گولہ باری سے بچانے کے لئے کونسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اسپیکر نے مسئلے کی حساسیت کو بانپتے ہوئے اور ایوان میں قائد ایوان اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کو غیرموجود پاتے ہوئے ایوان کی کاروائی ملتوی کی‘۔ انہوں نے بی جے پی تنقید کرتے ہوئے کہا ’بی جے پی جو ہمیشہ صورتحال کو معمول پر لانے کی باتیں کرتی آئی ہے، کو جواب دینا ہوگا۔ بیان بازی نہیں چلے گی۔ لوگ اور فوجی مررہے ہیں۔ کل ہی چار فوجی جوانوں کو مارا گیا۔ سرحدی آبادی مسلسل خوف کی فضا میں زندگی گذار رہی ہے۔ لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو سرحدوں پر امن کی بحالی کے سلسلے میں اقدامات اٹھانے چاہیے‘۔ حکومتی ترجمان و سینئر پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو پہل کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ’فوجیوں کی ہلاکت پر مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ یہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ جب تک مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جاتا، تب تک سرحدوں کے دونوں طرف تباہی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی پہل کریں گے اور جموں وکشمیر کو اس مصیبت سے باہر نکالیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’گولہ باری کے متاثرہ علاقوں میں اسکول بند ہیں۔ لوگوں کی عام زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ لوگ بے گھر ہورہے ہیں۔ یہ ایک مصیبت ہے جو جموں وکشمیر پر نازل ہوگئی ہے۔ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم مودی واحد شخص ہیں، جو اس کا مستقل حل نکال سکتے ہیں‘۔ سی پی آئی ایم کے اکلوتے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامہ نے سرحدی گولہ باری کو پاگل پن سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ’ یہ بہت ہی بدقسمت واقعہ پیش آیا ہے۔ میں آر پار کی گولہ باری کو پاگل پن سے تعبیر کرتا ہوں۔ سرحدوں کے نذدیک رہائش پذیر لوگوں کی زندگی جہنم بن گئی ہے۔ میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ بارود کا جواب بارود نہیں ہوسکتا۔ میں حکومت ہند سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ گولہ باری کے سلسلے کو رکوانے کی پہل کرے‘۔ قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں اتوار کو ایل او سی پر پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 4 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 6 دیگر زخمی ہوگئے۔ صوبہ جموں کے پانچ اضلاع جموں، سانبہ، کٹھوعہ، پونچھ اور راجوری میں بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر جنوری میں گولہ باری میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ یو اےن آئی

Comments are closed.