ہریانہ میں دو طلبہ پر بلوائیوں کے حملے،اسمبلی میں گونج سنائی دی
جموں :ہریانہ میں راجوری کے دو طلبہ پر بلوائیوں کے حملے کی گونج ہفتے کو قانون ساز اسمبلی میں بھی سنائی دی جس دوران اپوزیشن پارٹیوں نے زبردست احتجاج،شوروغوغا اور ہنگامہ آرائی کے بعدایوان سے واک آﺅٹ بھی کیا۔حزب اختلاف نے ریاستی حکومت پر بیرون ریاست مقیم ریاستی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا اور آزاد ممبران نے اس صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا جبکہ حکومت کی طرف سے پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے ملوثین کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلایا۔کے ایم این نمائندے کے مطابق اسمبلی کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے وابستہ ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور ہریانہ میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو طالب علموں کی غنڈوں کے ہاتھوں مارپیٹ کا مسئلہ اٹھایااور حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت بیرون ریاست جموں کشمیر کے شہریوں بالخصوص طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مکمل طور ناکام ہوچکی ہے اور سرکار کی لاپرواہی کے نتیجے میں ہی اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ تمام ممبران نے ایوان میں زبردست شوروغل بپا کیا جس پر پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے اپوزیشن ممبران کو اپنی بات ایک ایک کرکے سامنے رکھنے کا مشودہ دیا۔اس دوران نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر نے اپوزیشن کی طرف سے بولتے ہوئے اسپیکر کی توجہ ہریانہ میں پیش آئے واقعہ کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے اس واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری طلبہ کو ہمیشہ ریاست سے باہر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس طرح کے واقعات سے ”ہمارے طلبہ“ بقیہ ملک سے مزید الگ تھلگ ہوکر رہ جائیں گے۔ساگر کا کہنا تھا”یہ بات انتہائی مایوس کن ہے کہ ہمارے طلبہ جو ہمارا مستقبل ہیں، کو ذہنی تناﺅ اور جسمانی زیادتیوں سے گزرنا پڑرہا ہے ، اس طرح کے مجرمانہ حملے ایک وسیع خلاءپیدا کریں گے اور طلبہ بقیہ ملک سے مزید دور ہوجائیں گے“۔ایم ایل اے پہلگام الطاف احمد کلو نے بھوپال میں شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ یہ معاملات متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھاکر کشمیری طلاب کی حفاظت کو یقینی بنائے۔محمد اکبر لون اورجی ایم سروری سمیت نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے دیگر ممبران کے ساتھ ساتھ سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی اور پی ڈی ایف چیرمین حکیم محمد یاسین نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ جموں کشمیر کے شہری دیگر ریاستوں میں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں ۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق تاریگامی نے زور دیا کہ اس سلسلے میں تمام پارٹیوں کی طرف سے بااتفاق رائے ایک قرارداد منظور کرکے وزیر اعظم پر زور دیا جائے کہ وہ بیرون ریاست مقیم ریاستی طلبائ، تاجروں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے ذاتی مداخلت کریں۔بھاجپا کے ست شرما نے کہا کہ انہیں اس قرارداد پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ایک اور قرارداد میں پاکستان کی طرف سے سرحدی گولہ باری کی مذمت کی جائے۔اس موقعے پر پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری ایک بار پھر اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اورہریانہ میں پیش آئے واقعہ کے بارے میں بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ کے مہندرا گڑھ علاقے میںقریب15افراد پر مشتمل ہجوم نے جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو طالب علموں کی مارپیٹ کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر ہریانہ سرکار اور وہاں کی پولیس کے ساتھ اٹھایا گیا ۔ویری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ریاست کے پرنسپل سیکریٹری ہوم اور ڈی جی پولیس نے ہریانہ کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات کی۔ وزیر موصوف نے ایوان کو اس بات سے آگاہ کیا کہ واقعہ کی نسبت ایف آئی آر درج کرنے کے بعدتین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مزید تین کی نشاندہی بھی کی جاچکی ہے۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھوپال میں گرفتار کئے گئے زرعی یونیورسٹی کے طالب علم کو رہا کردیا گیا ہے اور وہ گھر لوٹ رہا ہے۔ کشمیر میڈیا نیٹ ورک نمائندے کے مطابق وزیرکے بیان سے اپوزیشن ممبران خاموش تو ہوگئے لیکن کچھ دیر بعد وقفہ صفر کے دوران اس معاملے کو لیکر ایوان میں پھر سے زبردست ہنگامہ ہوا۔نیشنل کانفرنس کے الطاف احمد کلو نے اسپیکر کی توجہ طلب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طلباءکی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ ہریانہ حملے کا شکار ہوئے طلاب نے اپنی حفاظت کو لیکر طرح طرح کے خدشات ظاہر کئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو صرف اس وجہ سے وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا گیا کہ ان کا تعلق جموں کشمیر سے ہے۔ انہوں نے پورے واقعہ کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں اور طلباءکا حوالہ دیتے ہوئے کہا”ہم یہاں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں ،اگر ہمارے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا گیا تو ہم سے واپس گھروں کو لوٹ آئیں گے“۔ان کی حمایت میں دونوں اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر احتجاج کرنے لگے۔ کانگریس کے جی ایم سروری نے بیرون ریاست کشتواڑ کے ایک25سالہ طالب علم کے قتل کا معاملہ بھی اُجاگر کیا اور کہا کہ ایسے واقعات متعلقہ سرکاری اداروں کی لاپرواہی کے نتیجے میں پیش آرہے ہیں۔ایوان میں ایک مرتبہ پھر شوروغل بپا ہوا اور اسی بیچ اپوزیشن جماعتوں کے تمام ممبران احتجاج کے بطور واک آﺅٹ کرگئے۔
Comments are closed.