فاروق ڈار کیلئے سنگباز ہونا ہی بہتر ہوتا: عمر عبداللہ
جموں، 2 فروری:جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں گذشتہ ہفتے فوجی فائرنگ میں تین جواں سال نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی کونٹر ایف آئی آر کے بعد یہ معاملہ اب معمولی نہیں رہا ہے۔ انہوں نے کٹھوعہ میں خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ میں انصاف کرنے کی گذارش کرتے ہوئے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مقتولہ بچی کی طبی رپورٹ ابھی تک تیار نہیں کی گئی ہے۔ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز یہاں قانون ساز اسمبلی میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والے جنرل ایڈمنسٹریشن اور داخلہ محکموں کے مطالبات زر پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے انسانی ڈھال معاملہ میں ریاستی حکومت کے فاروق احمد ڈار کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے پتھر باز ہونا ہی بہتر ہوتا کیونکہ بقول عمر عبداللہ کم از کم فاروق ڈار کو علیحدگی پسندوں کی پذیرائی حاصل ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ہم فاروق ڈار کو معاوضہ دیں گے تو اس کا یہ مطلب نکلے گا کہ فورسز قصوروار ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ نے شوپیان کے واقعہ میں دوہرے ایف آئی آر کے اندراج پر کہا ’گذشتہ دنوں شوپیان کے افسوس ناک واقعہ پر یہاں بحث ہوئی۔ آپ (محترمہ مفتی) نے اپنے جواب میں اس وقت ریاست کو یقین دلایا کہ آپ فوج کے خلاف درج ایف آئی آر پر قائم ہیں۔ ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے کہ اسٹیٹ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پر کاروائی ہوئی ہو۔ اب تو یہ ایف آئی آر کی لڑائی ہوگئی ہے۔ پولیس کی ایف آئی آر کے بعد فوج کی ایف ایف آر۔ آپ مجھے خدا راہ یہ بتائیں کہ جس تھانے میں پولیس اور فوج کی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں، اس تھانے کا ایس ایچ او کیا کرے گا‘۔ انہوں نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’ میری آپ سے یہ گذارش ہے کہ آپ ایک اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیجئے۔ دو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد یہ معمولی معاملہ نہیں رہا ہے۔ مجسٹریل انکوائری اپنی جگہ ہے، لیکن دوہرے ایف آئی آر کے معاملے سے نمٹنے کے لئے آپ کو ایک اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جانی چاہیے۔ ان ایف آئی آرز پر تحقیقات کا عمل شروع ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا ’سنہ 2000 کے بعد ہم نے پچاس مرتبہ مرکزی سرکار کے سامنے سیکورٹی فورسز بالخصوص فوج کے خلاف شکایت درج کی ۔ ان میں سے 47 شکایتوں کو مسترد کیا گیا اور تین پر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پچاس میں سے ایک پر بھی تحقیقات کی منظوری نہیں دی گئی۔ یہ ہمارا ٹریک ریکارڈ ہے۔ آپ اسمبلی میں کھڑا ہوکر کہتی ہیں کہ آپ ایف آئی آر کو منطقی انجام تک لے جائیں گی۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ جو 50 کیس آپ کو وراثت ملے ہیں ، جن پر اب تک تحقیقات کی منظوری نہیں ملی ہے، آپ یہ کو یہ بھروسہ کہاں سے ملا ہے کہ اس واقعہ پر انصاف ہوگا۔ جن کیسز میں کوئی کاروائی ہوئی ہے، ان پر فوج نے یہ کاروائی خود کی ہے۔ ان کو بھی بعد میں آہستہ آہستہ الٹا دیا گیا۔ جب مژھل کا واقعہ پیش آیا تو ہم نے لوگوں سے کہا کہ ہم آپ کو انصاف دلائیں گے۔ کورٹ مارشل کے ذریعے ملوثین کے خلاف کاروائی ہوئی ، لیکن سزا کو آہستہ آہستہ بدل دیا جارہا ہے۔ برین میں بی ایس ایف کے ایک نوجوان نے طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک عام شہری کو مارا۔ اس کی گرفتاری ہوئی اور کیس چلا۔ اس معاملے میں جو آپ نے یقین دلایا ہے، شک ہوتا ہے کہ آپ کے الفاظوں میں وزن نہیں ہے‘۔ مسٹر عبداللہ نے انسانی ڈھال معاملہ میں ریاستی حکومت کے فاروق ڈار کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار پر کہا ’میرے حلقہ انتخاب (بیروہ) میں گذشتہ ضمنی پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک ووٹر کا کیا حال ہوا، وہ پوری دنیا کو معلوم ہے۔ اس کو جیپ کے بونٹ کے ساتھ رسیوں سے باندھ کر 9 گاو ¿ں گھمایا گیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے بعد پتھراو ¿ والے علاقہ سے گذر رہا تھا۔ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے اس کا نوٹس لیا اور معاوضے کا اعلان کیا۔ لیکن آپ اس کو معاوضہ بھی نہیں دے پائیں۔ آپ کا جواب ہمیں کل ساگر صاحب (این سی رکن اسمبلی) کے سوال کے جواب میں معلوم ہوا۔ دو صفحے کے جواب میں آپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ہم معاوضہ دیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ فورسز قصوروار ہیں۔ فورسز نے تو اپنا کام کیا۔ باندھنے والے کو انعام اور میڈل سے نوازا۔ باندھنے والا نہ اُدھر کا رہا اور نہ اِدھر کا‘۔ انہوںنے کہا فاروق ڈار کے لئے پتھر باز ہونا ہی بہتر ہوتا کیونکہ بقول عمر عبداللہ کم از کم انہیں علیحدگی پسندوں کی پذیرائی حاصل ہوتی۔ انہوں نے کہا ’ایماناً میں یہ کہتا ہوں کہ شاہد اس کے بہتر پتھر باز ہونا ہوتا۔ کم از کم حریت والے اس پر اپنا دعویٰ کرتے۔ چونکہ اس نے ووٹ ڈالا تھا، الیکشن بائیکاٹ والے کہتے ہیں کہ اس کو صحیح سزا دی گئی ہے۔ وہ بے چارہ دو کشتوں کے بیچ میں پانی میں ڈوب گیا۔ جب ہم ایک ووٹر جس کے ساتھ ایک بہت بڑی انصانی ہوئی، کو ہم انصاف نہیں دلا سکے آج جب آپ اس ایوان میں کہتی ہیں کہ ایف آئی آر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، آپ ذرا بتائیں کہ لوگوں کا حکومت پر اعتماد کہاں سے آئے گا‘۔ عمر عبداللہ نے ریاست میں مجوزہ پنچایتی انتخابات کے انعقاد پر کہا ’ہمارے پچھلے سال کا ٹریک ریکارڈ دیکھئے۔ ایک طرف سے آپ کہتی ہیں کہ پنچایت کے الیکشن ہونے چاہیے ۔ لوگوں کو بڑھ چڑھ کر ان پنچایتی انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ اب آپ یہ انتخابات کا انعقاد کرنے یا نہ کرنے کے لئے کل جماعتی میٹنگ کی صدارت کرنے جارہی ہیں۔ میں خود اس میٹنگ میں نہیں آو ¿ں گا مگر میرے ساتھی موجود رہیں گے۔ ایک طرف سے آپ کہتی ہیں کہ امیدوار اور رائے دہندگان سامنے آنے چاہیے۔ لیکن آپ یہ بھی دیکھئے کہ ووٹروں کی کیا حالت کی جارہی ہے‘۔ نیشنل کانفرنس لیڈر نے کٹھوعہ میں خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ میں انصاف کرنے کی گذارش کرتے ہوئے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مقتولہ بچی کی طبی رپورٹ ابھی تک تیار نہیں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’میں یہ جان کر حیران ہوگیا کہ کٹھوعہ کی کمسن لڑکی کا میڈیکل رپورٹ بھی ابھی تک تیار نہیں کیا گیا ہے۔ کیا محبوبہ جی آپ وہ نہیں جنہوں نے 2009 کے شوپیان واقعہ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا تھا۔ آج جب آپ کے دوران حکومت میں ایک معصوم بچی کے ساتھ سانحہ پیش آیا تو کاروائی کیوں نہیں۔ تحقیقات پر لوگوں کا بھروسہ آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے۔ مہربانی کرکے اس میں آپ پیش رفت کا مظاہرہ کریں۔ پہلے آپ میڈیکل رپورٹ کو فوری طور پر تیار کروائیں۔ آپ بچی کے والدین کو دی ہوئی یقین دہانی کو پورا کریں‘۔ انہوں نے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا ’کوئی دن ایسا نہیں ہے جب ہم خون خرابے کی خبر نہیں ملتی۔ ہم شوپیان سے لیکر کٹھوعہ جائیں تو بے بسی ، افسوس ، دکھ اور درد کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ ہم نے امید کی تھی کہ اسکولوں اور کالجوں میں ہمارے بچے پڑھیں گے، لیکن پچھلے سال کے حالات ہم ابھی بھولے نہیں ہیں۔ کالج اور اسکولوں کے دروازوں کے اوپر سے پتھر اور نیچے سے آنسو گیس کے شیل داغے جاتے تھے۔ ہر ایک جگہ پر غیریقینی صورتحال بنی ہوئی ہے‘۔ عمر عبداللہ نے موجودہ دور حکومت کا اپنے دور حکومت سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ’میرے دور حکومت میں جب 2010 کی ایجی ٹیشن کے بعدحالات پر کچھ قابو پایا تو محبوبہ مفتی جی تب کہتی تھی کہ یہ ایک مصنوعی خاموشی اور امن ہے۔ یہ مصنوعی خاموشی اور امن پابندیوں کے نفاذ کے ذریعے یقینی بنایا گیا ہے۔ لیکن اس وقت اور آج کے حالات میں تو زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایسا کوئی جمعہ نہیں گذرتا جب سری نگر کے پائین شہر میں پابندیاں عائد نہیں کی جاتی ہیں۔ مسجدوں میں نماز پڑھنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی ہے۔ پہلی مرتبہ عید کے موقع پر کرفیو اور پابندیوں کا نفاذ کیا گیا‘۔ عمر عبداللہ نے مواصلاتی نظام پر آئے روز کی قدغن پر کہا’الیکٹرانک کرفیو اب معمول کی بات بن گئی ہے۔ کچھ نہیں تو فوراً انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ بند کرنا سے ہمارا کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہوتا ہے، اس کا فیصلہ تو آپ خود کرسکتی ہیں‘۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے سنگبازوں کو دی گئی عام معافی پر بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے جو سنگباز ہیں، ان کو لیکر بھی آج کنفوژن پایا جارہا ہے۔ کہا گیا کہ پہلی بار سنگبازی کے مرتکب نوجوانوں کو عام معافی دی جائے گی۔ 2010 کے بعد ہم نے بھی ایسا ایک قدم اٹھایا تھا۔ کچھ دنوں بعد آپ نے کہا کہ دوسری بار سنگبازی کے مرتکب نوجوانوں کو عام معافی دینے پر غوروخوض کیا جائے گا۔ آپ مہربانی کرکے ہمیں سمجھائیں کہ یہ دوسری بار سنگبازی کے مرتکبین کون ہیں؟‘۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی طرف سے ڈکٹیشن دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’ایک سلسلہ چل پڑا ہے کہ ریاست کے فیصلوں کا اعلان دہلی سے ہوتا ہے۔ پتھربازوں کے خلاف درج کیسوں کی واپسی کا پہلا اعلان بھی ہم نے دہلی سے ہی سنا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے گذشتہ دنوں ریاست کے لئے اٹھائے جانے والے بعض اقدامات کا اعلان کیا۔ یہ اعلانات ریاست کی طرف سے کئے جاسکتے تھے۔ آپ مرکز سے کہئے کہ جو ہمارے حد اختیار میں ہے، ایسے اعلانات ہمیں خود کرنے دیجئے۔ اس سے آپ کی کرسی کا تقدس اور اہمیت برقرار رہے گی‘۔ عمر عبداللہ نے ریاستی حکومت پر ایس پی اووز کی بھرتی عمل میں عدم شفافیت سے کام لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’ایس پی اووز کی بھرتی میں من مرضی ہوئی ہے۔ اس بھرتی عمل میں کوئی شفافیت نہیں دکھائی گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد نے ایس پیز کو باضابطہ فہرستیں بھیجیں۔ یہ اسامیاں اس ریاست کے حالات کو اچھا کرنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ ان کو مہربانی کرکے اپنا کاڈر بنانے کے لئے استعمال نہ کریں۔ اب کے بعد اگر آپ ایس پی اووز کا کوٹہ مل جاتا ہے تو مہربانی کرکے اس میں شفافیت سے کام لیجئے‘۔ یو اےن آئی
Comments are closed.