سری نگر میں لشکر طیبہ، ٹی آر ایف سے وابستہ دو ملی ٹینٹ معاون گرفتار : این آئی اے

سری نگرقومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ ملی ٹینسی سازش کیس میں ایک اہم پیش رفت کے تحت جمعے کے روز سری نگر سے دو ملی ٹینٹ معاونین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

این آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جمعے کے روز سری نگر میں دو ملی ٹینٹ معاونین جن کی شناخت مصیب فیاض بابا عرف شعیب اور ہلال احمد دیوا عرف سیٹھہ سوب ساکنان شوپیاں کے بطور ہوئی ہے کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں لشکر طیبہ اور ٹی آر ایف جیسی کالعدم ملی ٹینٹ تنظیموں کے پاکستان میں مقیم کمانڈروں اور ہینڈلرز کے لئے کام کر رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق یہ گرفتاریاں حالیہ دنوں میں ممنوع تنظیم کے بالائی ورکروں اور سہولیت کاروں کے ٹھکانوں اور رہائشی مکانوں پر چھاپوں کے دوران عمل میں لائی گئیں ۔

انہوں نے بتایا کہ ان چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران کئی ڈیجیٹل آلات برآمد کئے گئے جن کی بڑے پیمانے پر جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے۔

موصوف ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ گرفتار کئے گئے دو ملی ٹینٹ معاونین سوشل میڈیا اپیلی کیشنز کے ذریعے پاکستان میں مقیم کمانڈروں اور مختلف دہشت گرد تنظیموں کے سرگرم ارکان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں بالائی ورکر کے بطور کام کر رہے تھے اور یہ کہ پاکستان میں مقیم کمانڈروں اور ہینڈلرز کی ہدایت پر وہ ہتھیاروں اور پیسوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے کام پر مامور تھے۔

این آئی اے کے مطابق یہ سازش مختلف کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے کیڈرز اور بالائی ورکروں نے پاکستان میں مقیم کمانڈروں کے ساتھ مل کر رچائی تھی۔

انہوں نے کہاکہ یہ سرگرم بالائی ورکر منشیات کی بھاری کھیپ ،نقدی، چھوٹے ہتھیار، آئی ای ڈیز اور دیگر قسم کے بارودی مواد بشمول ریمورٹ کنٹرول سٹکی بموں کو جمع اور تقسیم کرنے میں سرگرم عمل تھے۔

انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے دوران مزید معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے بالائی ورکروں اور ملی ٹینٹوں تک یا تو ڈرونز کے ذریعے آئی ای ڈیز پہنچائی جاتی یا پھر مقامی طور پر بھی ان تک ہتھیار پہنچائے جاتے تاکہ جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ حملوں کو انجام دیا جاسکے۔

این آئی اے ترجمان کے مطابق ملی ٹینسی سازش کیس کا مقصد دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دے کر حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنا مقصود تھا تاکہ جموں وکشمیر میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کیا جاسکے۔

این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ملی ٹینٹ تنظیمیں اقلیتوں، تارکین وطن اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ تخریبی سرگرمیوں کو انجام دینے کی خاطر یہ سازشیں سوشل میڈیا ایپس کا استعمال کرنے اور سابئیر سپیس کے ذریعے رچائی گئی تھیں۔

Comments are closed.