ہم نے کبھی بھی مذاکرات کی بھیک کے لئے دامن نہیں پھیلایا ۔ بھارتی میڈیا ٹرائل چلاکر اپنے ذہنی افلاس کا مظاہرہ کررہا ہے ۔شبیر احمد شاہ
فریڈم پارٹی کے محبوس سربراہ شبیر احمد شاہ نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے اور حقائق سے ا آنکھیں چرانا نہی لوگوں کا شیوہ ہے جن کا موقف کمزور ہو اور جن کے پاس کوئی دلیل نہ ہو ۔انھوں نے بھارتی حکمرانوں کو مذاکرات سے بھاگنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر پر ان کے ناجائز قبضے کا کوئی جواز نہیں ۔جمعہ کو جاری بیان میں انھوں نے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی کے اس بیان کی شدید تنقید کی جس میں انھوں نے جموں و کشمیر کے سلسلے میںمذاحمتی حلقے کے ساتھ بات چیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں حالات سے نپٹنے کے لئے فوجیوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔شبیر احمد شاہ نے مزاکرات کے سلسلے میں وزیر دفاع کے بیان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی بھی مذاکرات بھیک نہیں مانگی ہے اور نہ ہی دو طرفہ بات چیت مزاحمتی قیادت کے ایجنڈا میں شامل ہے ۔انھوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ریاستی عوام حق خود ارادیت کے حصول کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرادادیں اور سہ فریقی بات چیت ہی ہمارے لئے اوپشن اور ترجیحات میں شامل ہے ۔شبیر احمد شاہ نے مسائل کے حل کے لئے مزاکرات کو ایک حتمی ذریعہ بتاتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ اس مسئلہ کو ملٹری مائٹ اوزوروجبر سے حل کرنے کی روش اختیار کی ہے لیکن ریاستی عوام نے فوجی طاقت کے آگے سرنگوں ہونے کے بجائے جس پامردی اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور کررہے ہیں وہ اب تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے ۔
شبیر احمد شاہ نے بھارتی حکام کو اپنی آنکھویں کھولنے اور حقائق کو تسلیم کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کی کاٹ بڑی بے رحم ہوتی ہے اور شاہی کروفر کی آڑ میں اپنا ڈنکا بجانے والے مغرور حکام کو بھی سرفروشوں کے جزبے کے آگے جکھانے پر مجبور کردیتی ہے ۔شبیر احمد شاہ بھارتی حکام کو سچ کے آگے سر جکھانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پہل کرکے وہ ہمارے اوپر کوئی احسان تو نہیں کریں گے البتہ مسائل کے حل کے لئے پہل کرتے ہوئے اپنی خستہ حال قوم کو غربت اور بھیک کے بھیانک حالات کا سامنا کرنے سے بچا سکتے ہیں ۔شبیر احمد شاہ نے ارون جیٹلی کے اس بیان کہ فوجیوں کو زمینی سطح پر فیصلہ لینے کی آزادی حاصل ہے ،پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اور یہ کام تو فوجی پہلے ہی سے انجام دے رہے ہیں ،البتہ اس سے ہمارے اس دعوے کو تقویت پہنچ رہی ہے کہ یہاں سول حکام صرف ہاتھی کے دانت جیسے ہیں اور زمینی صورت حال پر فوجیوں کا ہی ڈنکا بج رہا ہے ۔
شبیر احمد شاہ نے عالمی قیادت کو فوجی آفسرلٹل گوگئی کو انعام و اکرام سے نوازنے پر سنجیدہ نوٹس لینے کی مانگ دہراتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ اس طرح کے واقعات میں ملوث فوجی آفسران کو تمغات اور اعزازات سے نوازا گیا ۔شبیر احمد شاہ نے بھارتی میڈیا سے وابستہ چند ایک چینلز کے جانبدارنہ رول کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ان چینلز کے منتظمین نے عملاََ بھارت کی بھاگ ڈور سنبھال لی ہے اور جھوٹ اور کذب بیانی ان کا اوڑنا بچھونا ہے ۔انھوں نے بھارتی میڈیا کے اس رویہ اور طریقہ کار کو صحافت پر بد نما داغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بھارت میں سچ بولنے والوں کے لئے جائے پناہ بھی نہ رہے گی ۔
ادھر ترجمان نے شبیر احمد شاہ کی دوبارہ نظر بندی پر شدید تشویشاظہار کرتے ہوئے اور حکام کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران چند ایک دنوں کے سوائے وہ مکمل طور نظر بند رہے اور اس دوران انہیں ان کی مذہبی ،سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔ترجمان نے حریت چیرمین جناب سید علی گیلانی اور دوسرے قائدین کی مکمل نظر بندی اور گرفتاری کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنے سیاسی مخالفین کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو ،انہیںاس بات کا حق نہیں کہ وہ خود کو باغیرت لوگوں میں شمار کرے البتہ ان کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ خود کو نفس اور مفادات کے غلاموں کی فہرست میں اپنا نام درج کرائیں ،کہ یہی ان کے لئے مناسب رہے گا ۔
Comments are closed.