سردیوں میں ہائی بلڈ رپریشرکا خطرہ بڑھ جاتا ہے ،لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں / ڈاکٹر نثارالحسن
سرینگر/04جنوری/ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ منفی درجہ حرارت میں خون کے فشار میں اضافہ ہوتا ہے اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ بلڈ پریشر کو متواتر جانچ کرتے رہیں اور اپنے کھانے پینے میں بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ انہوںنے خون کے بلند فشار کو کم کرنے کےلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کے ساتھ ہی ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے بدھ کو کہا کہ سخت ترین سردی اور درجہ حرارت منفی ہونے کے نتیجے میں لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہاہے کہ سردیوں میں گرنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو وادی میں موت اور معذوری کی دو اہم وجوہات ہیں۔ ڈاکٹر حسن نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشرکو سردیوں میں کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ صحت مند لوگ بھی ہاٹ اٹیک سے بچ نہیںپاتے ہیںاور اس کی بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب موسم سرما آتا ہے اور درجہ حرارت گر جاتا ہے توخون کے شریانے سکڑ جاتے ہیں جس کے نتیجے میںدماغ اور دل کو خون پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ سرد درجہ حرارت خون کی نالیوں کو محدود کر دیتا ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے کیونکہ تنگ وریدوں کے ذریعے خون کو زبردستی پہنچانے کے لیے زیادہ دباو¿ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سردیوں میں سورج کی روشنی کی کمی وٹامن ڈی کی سطح کو کم کرتی ہے جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سردیوں میں بیٹھے رہتے ہیںاور کھانے پینے پر خاص توجہ نہیں دیتے جس سے وزن بڑھتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اگرچہ ہم موسم کو تبدیل نہیں کر سکتے، سادہ احتیاطیں سردیوں میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ سرد درجہ حرارت سے بچنے کے لیے خود کو گرم رکھیں۔ اگر آپ باہر جاتے ہیں تو تہوں میں کپڑے پہنیں، ٹوپی، دستانے اور اسکارف پہنیں۔ چہل قدمی کے لیے سردی میں جانے سے گریز کریں اور اپنی ورزش کو اندر لے جائیں۔ نمک کی مقدار کم کریں اور سبزیوں اور پھلوں سے بھرپور غذا لیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہائی بلڈ پریشر کا علاج کر رہے ہیں انہیں سردیوں کے دوران اپنے بلڈ پریشر کی کثرت سے نگرانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے خوراک میں اضافے یا ادویات کے اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Comments are closed.