بارہمولہ میں نقب زنی کا معاملہ پولیس نے کیا حل ،لاکھوں روپے مالیت کا چورہ شدہ سامان برآمد، مزید گرفتاریاں متوقع / پولیس
سرینگر /21نومبر /
بارہمولہ پولےس نے کنزر علاقے مےں نقب زنوں کے اےک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے دو نقب زنوں کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی چوری شدہ جائیداد برآمد ہوئی ۔سی این آئی کے مطابق پولیس سٹیشن کنزر میں ماضی میں گاڑی چوری کی کچھ وارداتیں رونماہوئی تھی جس سلسلے مےںپولیس سٹیشن کنزر نے کئی مقدمات درج کئے تھے۔ نقب زنی کی ان وارداتو ں کے خلاف پولےس نے اےک اسپےشل تفتےشی ٹےم تشکےل دی ۔دوران تفتےش تکنیکی اور انسانی وسائل کی مدد سے پولےس کو کئی مشتبہ افراد کے نام سامنے آئے جن میں سے ایک عبدالمجید لون ولد غلام احمد لون ساکن چیکتھن چھانپورہ ٹنگمرگ تھا جو ٹنگمرگ علاقہ کا ایک مشہور نقب زن ہے پولےس نے مذکورہ کی تلاش شروع کردی اور گرفتاری سے بچنے کے لیے مذکورہ شخص اپنا گھر چھوڑ کرروپوش تھا۔ اسی دوران پولیس اسٹیشن کنزر کو گا¶ں گلاب دجی علاقے میں مذکورہ مشتبہ شخص کی نقل و حرکت کے بارے میں اطلاع ملی اورپولیس پارٹی کنزرنے اسے گرفتار کرکے اُس کی پوچھ تاش شروع کی ۔ پوچھ گچھ کے بعد اس نے انکشاف کیا مذکورہ اور اُس کا دوسرا ساتھی بشارت احمد بٹ ولد غلام احمد بٹ ساکن گنڈ ہسی بٹ سرینگر چوری اور ڈکیتی کی ان وارداتوں میں ملوث ہیں جنہیں گرفتار بھی کیا گیا۔ دونوں نے مزید انکشاف کیا کہ اپنے جرم کو چھپانے اور چوری شدہ مال کو ٹھکانے لگانے کے لیے انہوں نے پٹن کے علاقے میر گنڈ میں غوطہ کراسنگ پر ایک ورکشاپ کھول رکھی ہے جہاں انہوں نے چوری شدہ گاڑیوں کو پرزوں میں تقسیم کیا اور انجنوں کو توڑا اور بعد مےںان گاڑیوں کے ٹکڑوں کو مرمت کے لیے آنے والی گاڑیوں میںاستعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ مذکورہ ملزمان ورکشاپ سے چوری شدہ ایم آئل اور اسپیئر پارٹس بھی صارفین کو فروخت کر رہے تھے۔ ان کے انکشاف پر تھانہ کنزر میں ڈکیتی اور چوری کی چھ وارداتیں حل کر لی گئی ہیں جن میں مسروقہ املاک یعنی ایم آئل، اسپیئر پارٹس اور مسروقہ گاڑیوں کے پرزے، تانبے کے برتن، بیڈ شیٹس، لاکھوں روپے مالیت کے کمبل برآمد ہوئے ہیں۔
Comments are closed.