منی شنکر آئیر کی قیادت میں آئے وفد کے ساتھ شبیر احمد شاہ کی ملاقات ۔جموں کشمیر کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال
فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے بھارتی رہنماء منی شنکر آئیر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستانی عوام کے خیر خواہ بھی ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ دو ممالک مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بے چینی اور غیر یقینیت کا شکار ہو۔البتہ انھوں نے واضح کیا کہ جموں کشمیر کے عوام کسی بھی صورت میں اپنی جائز جدوجہد سے باز نہیں آئیںگے اور حصول آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔منی شنکر آئیر اور ان کے ساتھ آئے وفد میں او پی شاہ ، آئی ڈی خجوریہ ، ریٹائرڈ آئروائس مارشل کپل کاک اور ونود شرما شامل تھے۔ وفد کے ساتھ بات کرتے ہوئے شبیر احمد شاہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے ڈھائے جارہے مظالم کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی ستم نہیں جو فوجیوں نے نہ ڈھایا ہو۔انھوں نے بتایا کہ بھارتی لوگوں پر تحریک آزادی کے دوران شاید برطانیہ اس طرح کے ستم نہ ڈھائے ہوں البتہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جان بوجھ کرہماری آنکھیں بھی چھینی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایک جلینوالاباغ دیکھا جب کہ کشمیرمیں روز روز ایسے واقعات رونما ہونامعمول بن چکاہیں۔انہوں نے وفد سے کہا ہمیںآپ سے امید ہے کہ آپ نیک نیتی اور انسان دوستی سے کام لے کر اپنے لوگوں کو ریاست کی صورت حال سے متعلق اصل حقائق بتانے کی کوششیں کریں گے۔
دونوں رہنمائوں کے بیچ خوشگوار ماحول میں بات چیت کے دوران بھارتی وفد میں شامل قائدین سے کہاکہ آپ نے اچھا کیا کہ آپ فوج اور پولیس کی چھتر چھایا کا سہارا لئے بغیر یہاں آئے اور میں یہ ضرور کہوں گاکہ آپ لوگوں سے بھی ملے اور دیکھیں کہ کس طرح ان پر بے انتہا مظالم ڈھائے جارہے ہیںاور لوگوں کا کیا مطالبہ ہے ۔اس موقع پر شبیر احمد شاہ نے بھارتی وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے عوام کے مدمقابل کھڑے نہیں ہیں اور نہ ہمیں بھارت کے لوگوں سے کوئی عداوت ہے البتہ ہمارا وہی مطالبہ ہے جو بھارت کی ساڑھے پانچ سو ریاستوں کا تھا اور کہ جس طرح برطانوی حکومت نے متحدہ ہندوستان کی اُن ریاستوں کو اپنی سیاسی قسمت سے متعلق فیصلہ کرنے کا موقع دیا،وہی ہمارا مطالبہ ہے اور جو لوگوں کا فیصلہ ہوگا وہ قبول کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ اٹھا کر دیکھئے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ بھارت کے وجود سے قبل بھی جموں کشمیر ایک آزاد خطے کی حثییت سے موجود تھا ۔شبیر احمد شاہ نے بھارتی اور فوجی حکام کی دھمکیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہا کہ پروپگنڈا کیا جارہا ہے کہ آزادی کی تحریک صرف تین ضلعوں تک محدود ہے ۔ہم تو اس پر کچھ نہیں کہیں گے سوائے اس کے بھارتی حکام اپنے غریب عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اگر ایسا ہی ہے تو سبھی ضلعوں میںلوگوں سے رائے پوچھنے کے بارے میں کیوں ڈرتے ہو۔سچ کا سامنا کرو اور دیکھو کہ لوگ کیا کہتے ہیں ۔
شبیر احمد شاہ نے بھارتی وفد کے ساتھ بات کرتے ہوئے ریاست میں جاری طلباء کے خلاف سرکاری کاروائیوں کی بات کی اور کہا کہ پولیس اور فورسز اہلکار بنا کسی وجہ کے ان اداروں میں داخل ہوکرانہیں اشتعال دے رہے ہیں ۔آج بھی درجنوں طلباء گرفتار ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ یہ طلباء اپنی تعلیم جاری رکھیں لیکن یہ کیسے ممکن ہے ۔ایک طرف نوجوانوں پر گولیاں داغی جارہی ہیں ،ان کی بینایاں چھینی جارہی ہیں ،اس سے طلباء تو مشتعل ہوں گے ۔میں یہ بات کسی لاگ لپٹ کے بغیرکہوں گا کہ بھارت کی دیگر ریا ستوں میں لوگ اور جوان احتجاج کرتے ہیں ،اربوں روپے کی املاک کو تباہ کرتے ہیں لیکن صرف کشمیر میں گولیاں اور پیلٹس کی بوچھاڑ کی جارہی ہے ۔ایسا کیوں ؟ایسا کرکے بھارتی حکام انہیں مشتعل کررہے ہیں اور پشت بہ دیوار کرکے انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کررہے ہیں اور لازمی ہے کہ لوگ اس کے خلاف احتجاج کریں گے اور ان کا حق بھی بنتا ہے کہ وہ غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔سیاسی قائدین اور نوجوانوں کے لئے پُر امن جدوجہد کے سبھی دروازے بند کئے گئے ہیں اور لازمی طور نوجوان دوسری انتہا کی جانب مائل ہورہے ہیں۔
شبیر احمد شاہ نے بھارتی وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بات چیت سے نہیں ڈرتے اور ہمارا ماننا ہے کہ بات چیت ہی مسائل کا حل ہے ،البتہ بات چیت سہ فریقی ہو اور اس میں کوئی جور جبر نہ ہو ۔شبیر احمد شاہ نے وادی میں سیاسی قائدین پر عائد قدغن اور گرفتاریوں کی لہر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہ وادی کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے اور اسی سلسلے کی کڑی کے طور سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کی گئی تاکہ ریاست کے گھمبیر صورت حال کے بارے میں دنیا بے خبر رہے ۔اظہارآزادی رائے پر پابندی عائد کرکے یہ لوگ ہمارا گلہ گھونٹ رہے ہیں اور دنیا تک ہماری بات پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے ۔یہ تو صاف ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم بھی بات چیت کے لئے بھیک نہیں مانگتے البتہ عالمی قیادت کو اس سلسلے اپنا رول ادا کرنا ہوگا اور حق خود ارادیت کے حصول کے لئے سبھی فریقین کو مزاکرات کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کرکے سیاسی مسائل پُر امن طریقے سے حل کرنے کے لئے آگے آنا ہوگا ۔شبیر احمد شاہ نے وفد کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آپ بھارتی لوگوں تک ہمارا یہ پیغام پہنچادیں گے کہ ہم بھارت کی سالمیت کے خلاف نہیں البتہ ایک جائز حق کیلئے پُر امن سیاسی جدوجہد کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہماری اس جدوجہد میں بھارت کے دانشور اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے قائدین اور لوگ ہمارا ساتھ دیں گے ۔اقلیتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شبیر احمد شاہ نے کہا کہ آپ لوگ قریہ قریہ جاکر اقلیتیوں کے ساتھ روا رکھے گئے ہمارے انسانی سلوک کے بارے میں خود دیکھ سکتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے ۔البتہ اس کے برعکس جموں میں مسلمان آبادی کے خلاف جنگ جیسی کیففیت پیدا کی جارہی ہے اور ان کے مال و جان کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
Comments are closed.