نئی تعمیر میں لکڑی کے مواد کا کم استعمال ،امسال کشمیر میں آگ لگنے کے واقعات میں کمی درج
سرینگر /10نومبر/
محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس نے دعویٰ کیا کہ امسال کشمیر میں آگ لگنے کے واقعات میں کمی درج ہوئی ہے اور کہا کہ اس سال جنوری سے کشمیر بھر میں آتشزدگی کے واقعات میں 70 کروڑ روپے سے زیادہ کی املاک کو نقصان پہنچاجس میں سب سے زیادہ نقصان سرینگر میں ہوا ہے جہاں محکمہ کو 384فون کالز موصول ہوئی ۔ سی این آئی کے مطابق نئی تعمیر میں لکڑی کے مواد کے کم استعمال کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں کشمیر میں آتشزدگی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے لیکن شہر سرینگر کی گنجان آبادی والے علاقے اور تنگ گلیاں محکمہ فائراینڈ ایمرجنسی کیلئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے اور آگ کے خطرے سے دوچار ہے۔ ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے جوائنٹ ڈائریکٹر فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کشمیر بشیر احمد شاہ نے سال 2016 سے اب تک ان کے پاس دستیاب اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے پورے کشمیر میں آتشزدگی کے واقعات میں زبردست کمی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ لوگ تعمیر میں بہت کم لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ نئے مکانات کی پہلی اور دوسری منزل کی لکڑی کی چھتوں کو کنکریٹ کے سیمنٹ کے سیلبوںسے بدل دیا گیا ہے۔ تاہم انہوںنے کہا کہ شہر سرینگر کے مرکز کے علاقوں میں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور تنگ گلیوں کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات کا خطرہ برقرار ہے جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے وقت آگ بجھانے والوں کیلئے کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کشمیر بھر میں خاص طور پر شہر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ آگ لگنے کے واقعہ کی صورت میں پولیس اسٹیشنوں کو کال نہ کریں اور اس کے بجائے فوری طور پر 101 ڈائل کریں اور جائے حادثہ کا صحیح مقام بتائیں۔انہوں نے اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کشمیر بھر میں آتشزدگی کے مختلف واقعات میں 70 کروڑ روپے سے زیادہ کی املاک کو نقصان پہنچا ہے جو 2016 کے بعد سب سے زیادہ ہے جس وقت آگ سے 87.41 کروڑ روپے کی املاک کو نقصان پہنچا تھا ۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اس سال سرینگر میں اب تک کی سب سے زیادہ 384 آگ لگانے کی فون کالز محکمہ کو موصول ہوئی جس کے بعد بارہمولہ میں 252 تھی۔ محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی میں افرادی قوت کی کمی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ سال 2020 میں بھرتی کے ذریعے 700 ملازمین کو محکمے میں بھرتی کرنے کے بعد افرادی قوت کی کمی کو کافی حد تک دور کیا گیا لیکن افسران کی کمی بدستور برقرار ہے۔ نئی گاڑیوں کی دستیابی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ محکمہ نے کچھ نئی گاڑیاں خریدی ہیں جبکہ عالمی بینک نے بھی آگ بجھانے والی کچھ گاڑیاں فراہم کی ہیں لیکن محکمہ کے پاس دستیاب زیادہ تر گاڑیاں پرانی ہیں اور انہیں جدید ترین گاڑیوں سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
Comments are closed.