سینٹرل یونیوسٹی آف کشمیر میں تین روزہ کشمیری فکشن میں سائنس ورکشاپ اختتام پذیر
سرینگر /08ستمبر
کشمیری زبان میں سائنس کی ترقی، ترسیل اور پھیلاو¿ کے لیے مرکزی جامعہ کشمیر میں ”کشمیری فکشن میں سائنس“ کے عنوان کے تحت تین توزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہوا ۔
ورکشاپ کے تیسرے روز اعجاز الحق نے اپنے خطبے میں کہا کہ ادبی فکشن اور سائنس میں اشتراک و افتراق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نے کشمیری زبان میں سائنسی علوم کے ترجمے کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔
اختتامی نشست کی صدارت سنٹرل یونیورسٹی کے پروفیسر محمد افضل زرگر نے کی اور نظامت کے فرائض سلیم سالک نے انجام دی۔ پروفیسر شاہد رسول (منتظم اعلیٰ اور اسکوپ کنوینر) نے مہمانانِ کا استقبال کرتے ہوئے اکوپ کی کارکردگی پر سیر حاصل بحث کی ۔ اس کے بعد ورکشاپ کی روداد ڈاکٹر نظر علی نظر نے پیش کی، دیبا نذیر، فیاض دلبر،پروفیسر شاد رمضان، پروفیسر زماں آزردہ اور نپروفیسر شفیع شوق نے تین روزہ پروگرام کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کئے۔ خصوصی کلمات ادا کرتے ہوئے پروفیسر محمد افضل زرگر نے تاکیداً کہا کہ ہمیں سائنسی علوم کی ترقی کے لیے کشمیر زبان کا سہارا لے کر اس کو ایک نئی روح بخشنی چائیے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ایسے پروگراموں کے لئے ہمیشہ اور ہر ممکن مدد کے لئے پیش پیش رہے گی۔ورکشاپ کے آخر پر شکرانے کی تحریک ڈاکٹر سید ثمرنی گیلانی نے پیش کی۔اس ورکشاپ کے متعمد عرفان عالم تھے۔
Comments are closed.