غلام نبی آزاد نے پارٹی مفادات کے خلاف کام کیا / غلام احمد میر
جی 23لیڈران نے پارٹی کے اندرونی معاملے کو میڈیا میں موضوع کا ذریعہ بنایا
سرینگر/05مارچ: جموں کشمیر پردیشن کانگریس کے صدر نے غلام نبی آزاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوںنے دیگر لیڈران کے ساتھ پارٹی کے اندرونی معاملے کو میڈیا میں موضوع کا ذریعہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں پارٹی کی امیج خراب کی گئی ہے ۔ کانگریس لیڈر جی اے میر نے کہا کہ جی 23لیڈران پارٹی کے اندرونی معاملات کو سڑک پر لیجانے کے مرتکب ہوئے ہیں جس پر انہیں نادم ہونا چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ پارٹی میں میں جمہوری عمل سے ہی عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق جموں و کشمیر کانگریس کے صدر جی اے میر نے پارٹی کے سینیر لیڈر غلام نبی آزاد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جموں میں ایک قومی ٹی وی چینل کے ساتھ خاص ملاقات میں انہوں نے غلام نبی آزاد اور جی 23 کے لیڈروں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے پارٹی کے اندرونی معاملات کی میڈیا کے ذریعہ تشہیر کرکے پارٹی مفادات کے خلاف کام کیا ہے۔ جی اے میر نے کہا کہ کانگریس پارٹی میں روز اول سے ہی جمہوری طرز عمل سے پارٹی عہدیداروں کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنا سیاسی سفر شروع کرتے ہی ان جمہوری اقدار کو پارٹی کے اندر مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے یوتھ کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری منتخب ہونے کے ساتھ ہی پارٹی میں زونل اور یونٹ سطح پر انتخابات کروائے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو بھی لیڈر منتخب کر کوئی عہدہ حاصل کرتا ہے ، وہی صیح معنوں میں پارٹی اور لوگوں کی بہتر ترجمانی کر سکتا ہے۔ میر نے الزام عائد کیا کہ گروپ 23 کے کچھ لیڈروں نے اس وقت اس عمل کے بارے میں چہ می گوئیاں شروع کی تھیں۔ غلام احمد میر نے کہا کہ کانگریس میں قومی سطح پر تنطیمی الیکشن میں صدر کے عہدے کیلئے راہل گاندھی نے فارم بھر دیا۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں راہل گاندھی نے کسی کو فارم بھرنے سے نہیں روکا ہوگا۔ جب کسی نے فارم داخل ہی نہیں کیا ، تو وہ بلا مقابلہ پارٹی صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے ابھی کوئی بھی پارٹی صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہے ، اسلئے سونیا گاندھی کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ جی اے میر نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے چونکہ انتخابات عمل میں نہیں لائے جاسکے ، لہذا یہ الیکشن اب پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد ہوں گے۔میر نے کہا کہ الیکشن ختم ہوجانے کے ساتھ ہی مئی کے آخری یا جون کے پہلے ہفتے میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا سیشن بلایا جائے گا اور اس میں جو بھی دعوے دار ہوں گے ، وہ اپنا فارم داخل کر سکتے ہیں اور انتخابات کے ذریعہ پارٹی کا صدر منتخب کیا جائے گا۔ غلام نبی آزاد اور جی 23 کے جموں کے حالیہ دورے اور بیانات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے غلام نبی آزاد کی جموں آمد پر پارٹی دفتر میں ان کا والہانہ استقبال کیا۔ کیونکہ وہ جموں و کشمیر کے ایک بڑے سیاسی لیڈر ہیں۔ تاہم 28 تاریخ کو جب غلام نبی آزاد نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ زمین سے جْڑے ہوئے شخص ہیں اور کافی ذہین بھی ہیں، اس سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا۔جی اے میر نے کہا کہ چونکہ آزاد صاحب آنے والے دنوں میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں اسٹار کمپینر کی حثیت سے کانگریس پارٹی کے حق میں انتخابی مہم چلانے والے ہیں ، تو ایسے میں جب وہ اسی قیادت کی تعریف کرتے ہیں جن کے ساتھ پانچ ریاستوں میں ہمارا مقابلہ ہونے والا ہے تو میرے خیال میں یہ خبریں ان کے ساتھ وہاں تک جائیں گی تو وہ شائد اسی میں اْلجھے رہیں گے اور کانگریس کی مدد نہیں ہوپائے گی۔جب ان سے راہل گاندھی کے ساتھ حال ہی میں ہوئی ان کی میٹنگ میں اس معاملہ کو اٹھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو میر نے کہا کہ اس میٹنگ میں اس معاملہ کے علاوہ باقی تمام معاملات پر بات چیت ہوئی۔ میر نے کہا کہ اس ایونٹ کے بغیر باقی سبھی ایشوز پر راہل گاندھی سے بات ہوئی ، یہاں پر کیا ہوا ، کون لوگ آئے تھے، اس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ میر نے کہا کہ راہل گاندھی کے ساتھ میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر کے معاملات اور یہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔غلام نبی آزاد کے حالیہ بیانات کے جموں و کشمیر کانگریس پارٹی پر کتنا اثر پڑے گا؟ ، اس کے جواب میں میر نے دعوی کیا کہ اس سے پارٹی میں کسی طرح کی کوئی دراڑ نہیں پڑے گی۔
Comments are closed.