سرینگر/09فروری: گریز بانڈی پورہ کے تُلیل تحصیل کے پانچ دیہات گزشتہ تین ماہ سے بجلی سے محروم ہے جس کے نتیجے میں شام کے بعد ہر سو اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق تین ماہ پہلے خراب جنریٹر کو مرمت کیلئے یہاں سے اُٹھایا گیا تاکہ سرینگر میں اس کی مرمت کی جاسکے تاہم اس کو بانڈی پورہ میں رکھا گیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے گریز ویلی میں تحصیل تُلیل کے 5بڑے گائوں جن کی آبادی لاکھوں نفوس پر مشتمل ہے گزشتہ تین ماہ سے بجلی سے محروم ہے ۔جن میں بگلندر، سرداب، جی جی شیخ ، کھورتن اور ٹیٹران شامل ہیں۔اگرچہ بڈوگام کا جنریٹر کچھ ہفتوں پہلے ٹھیک کیا گیا تھا تاہم دیگر علاقہ جات ابھی بھی بجلی سے محروم ہیںکیوں کہ ان کے علاقوں کے جنریٹر بھی واپس نہیںلائے گئے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق پورے گریز کو ڈیزل کے جنریٹر کے ذریعے بجلی سپلائی کی جاتی ہے وہ بھی چند گھنٹوں کیلئے جبکہ جموں کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن گریز کیلئے بجلی کی فراہمی کے لئے پاور پروجیکٹ بنایا جارہا ہے ۔ جس کو بانڈی پورہ گریڈ سٹیشن سے جوڑا جارہا ہے ۔ جنریٹر مرمت کے بعد واپس نہ لائے جانے کے سلسلے میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ گریز نے بتایا کہ خراب جنریٹروں کو مرمت کیلئے بھیج دیا گیا ہے جن کو سرینگر میں مرمت کیا گیا اور بانڈی پورہ پہنچایا گیا تاہم ہیلی کاپٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے مرمت شدہ جنریٹر کو گریز نہیں پہنچایا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ بارہ دنوں سے ہیلی کاپٹر گریز نہیں آیا اور جونہی ہیلی کاپٹر آئے گاجنریٹر کو رگریز پہنچایا جائے گا۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.