چلہ خرد میں بھی سردی کے تیور انتہائی سخت ، کڑاکے کی ٹھنڈ سے اہلیان وادی کو کوئی راحت نہیں

آئندہ 24گھنٹوں کے دوران بالائی اور میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برفباری کی پیشگوئی

سرینگر میں شبانہ درجہ میںپھر تنزلی ، وادی کے اطراف و اکناف میں نل اور آبی ذخائر بدستور مجمند

سرینگر/02فروری: چلہ خرد میں موسم خشک رہنے اور دن میں ابر آلود موسم سے وادی کشمیر میں شبانہ سردیو ںمیں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ جموں اور لداخ میں بھی سردی کی شدید ترین لہر جاری ہے جس کے باعث اہلیان وادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ادھر وادی کے بیشتر مقامات پر کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلے جانے کی وجہ سے اہل وادی کو سخت شبانہ سردیوں کا سامنا ہے۔اسی دوران محکمہ موسمیات نے آئندہ 24گھنٹوں کے دوران موسمی صورتحال میں تبدیلی آنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے برفباری کی پیشگوئی کی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق چلہ خرد میں موسم خشک رہنے سے شبانہ درجہ حرارات میں کافی کمی ریکار ڈکی گئی ہے ۔ بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کے میدانی علاقوں میں بھی شبانہ درجہ حرارت میں کمی واقع ہونے سے سردی کی لہر جاری ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی رات سرینگر میں سرد ترین ریکارڈ کی گئی ۔ جس کے نتیجے میں آبی ذخائر بھی منجمند ہو گئے تھے ۔سرینگر میں بھی درجہ حرارت کے گرنے کی وجہ سے سرد رات کو ریکارڈ کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر منفی 4.6ڈگری کادرجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی سرد لہر جاری ہے۔جبکہ وادی کے سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میںبھی رات کا درجہ حرارت منفی 7ڈگری سے نیچے چلا گیا ۔دریں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ماہ فروری کے ایام میں اس قدر شدید سردی کافی کم دیکھی ہے جب اُنہیں پینے کے پانی کے بھی لالے پڑ گئے ہیں کیونکہ اُن کے گھروں کے اندر بھی نل مکمل طور پر جم گئے ہیں۔ادھر محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 24گھنٹوںمیں بالائی اور میدانی علاقوں میں ہلکی بارشوں کے ساتھ درمیانہ درجہ کی برف باری ہونے کا امکان ہے۔اس دوران گزشتہ رات بھر شدید سردی ہونے کے ساتھصبح بھی سرینگر سمیت پوری وادی میں شدت کی سردی محسوس کی جارہی ہے۔شدید سردی کی لہر جاری رہنے کے باعث مسلسل جھیل ڈل کی اوپری سطح پوری طرح سے منجمد رہی۔صبح کے وقت چلنے والی یخ بستہ ہواؤں اور شدت کی سردی کی لہر برقرار رہنے کے باعث صبح کے وقت زیادہ تر لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں۔درجہ حرارت منفی ریکارڈ ہونے نتیجے میں نل اور پانی کی ٹینکیوں میں بھی پانی جم گیا ہے جس وجہ سے اب گھروں کے اندر بھی پانی دستیاب نہیں ہو رہا ہے اور لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ۔دریں اثنا سرینگر سمیت وادی کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت بھی نقطہ انجماد سے مسلسل نیچے گر گیا ۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ وادی کے دیگر علاقوں میں بھی سرد لہر جاری ہے۔خطہ لداخ کا کرگل بدستور سرد ترین جگہ بنی ہوئی ہے ۔ شبانہ درجہ حرارت میں کمی آنے کے باعث منگل کو مسلسل چوتھے روز بھی پینے کے پانی کے نل منجمند پائے گئے۔ کچھ ایک آبی ذخائر کو بھی جزوی طور پر منجمند پایا گیا۔

Comments are closed.