ٹوکیو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چھ ملین ین کی یہ رقم تقریباﹰ 48 ہزار یورو کے برابر بنتی ہے۔ جاپانی روزنامے ‘ہوکائیڈو شمبون‘ نے آج اپنی پیر چار جنوری کی اشاعت میں لکھا کہ یہ نام نہاد ‘خلا باز‘ کوئی خلا باز نہیں بلکہ ایک دھوکے باز تھا، جس کا علم اس خاتون کو تب ہوا جب وہ اسے اپنے جمع کردہ سرمائے میں سے چھ ملین ین بھیج چکی تھی۔
اگلے خلائی مشن سے واپسی کے بعد جاپان میں رہائش
اخبار کے مطابق اس خاتون کی انٹرنیٹ پر شناسائی ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی، جو خود کو ایک ‘روسی خلا باز‘ قرار دے رہا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ اپنے اگلے خلائی مشن سے زمین پر واپسی کے بعد جاپان میں رہائش اختیار کرنا چاہتا تھا۔
ساتھ ہی اس ملزم نے اس خاتون سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ وہ اپنے آئندہ خلائی مشن سے پہلے ہی اپنا سامان جاپان بھیج دینا چاہتا ہے اور اگر ہو سکے تو یہ خاتون اس کے سامان کی کارگو کے طور پر روس سے جاپان منتقلی کا بل ادا کر دے۔
ٹرانسپورٹ کمپنی کا کارکن گھر پر آ گیا
اس درخواست کے بعد ایک ایسے جاپانی شخص نے اس خاتون سے اس کے گھر پر رابطہ کیا، جس نے کہا تھا کہ وہ ایک انٹرنیشنل گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کا کارکن ہے اور اس خاتون کو ‘روسی خلا باز کے سامان‘ کی مال برداری اور انشورنش کے لیے بل ادا کر دینا چاہیے۔
بظاہر یہ خاتون اتنی سادہ تھی کہ اس نے ‘روسی خلا باز‘ کی مدد کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کمپنی کے کارکن کے دیے گئے بینک اکاؤنٹ میں چھ ملین ین بھیج دیے، جو تقریباﹰ 48 ہزار یورو کے برابر بنتے تھے۔
اس واقعے کے بعد اس جاپانی خاتون کو خود کو ‘روسی خلا باز‘ قرار دینے والے دھوکے باز کا کوئی پتا نہ چل سکا اور اسے یقین ہونے لگا کہ اس کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔
تنگ آ کر اس خاتون نے بالآخر اپنے شہر کی مقامی حکومت کو اس جرم کی اطلاع کر دی۔ پولیس مقدمہ درج کرنے کے بعد چھان بین کر رہی ہے تاہم یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ اس خاتون کو اس کی رقم واپس مل سکے گی۔
Comments are closed.