وادی کے اطراف واکناف میں زرعی اراضی پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری
روزانہ سینکڑوںکنال اراضی ہورہی ہے ختم ، متعلقہ محکمہ جات کی خاموشی کانتیجہ
سرینگر/19دسمبر : وادی کے اطراف و اکناف میںزرعی اراضی پر تجاوزات قائم کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں روزانہ سینکڑوں کنال اراضی ختم ہورہی ہے جبکہ متعلقہ محکمہ جات کی مجرمانہ خاموشی سے کشمیر زرعی پیدوار میں کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ اس پر جانکار حلقوں کا کہناہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وادی کشمیر میں زرعی سرگرمیاں ختم ہوجائیں گی اور ہم لوگ پوری طور پر باہر کی منڈیوں پر منحصر ہوں گے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ایک طرف سرکار اور عدالت کی طرف سے زرعی اراضی پر کسی بھی طرح کی سرگرمی پر پابندی عائد ہے تاہم زمینی سطح پر اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے اور اگر متعلقہ محکمہ کسی کے خلاف کارروائی بھی کرتا ہے تو وہ غریب طبقہ ہے جن کے پاس نہ رشوت دینے کیلئے رقم ہوتی ہے اور ناہی کسی بڑے آفیسر کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے اور ناہی سیاسی اثر رسوخ ہوتا ہے ۔ وادی کے اطراف و اکناف میں زرعی اراضی پر تعمیراتی سرگرمیاں عروج پر ہونے کے نتیجے میں وادی میں آہستہ آہستہ زرعی اراضی ختم ہوتی جارہی ہے ۔ روزانہ سینکڑوں کنال اراضی پر مختلف قسم کی تعمیراتی کھڑا کی جارہی ہے ۔رہائشی مکانوں ،دکانوں اور تجارتی کمپلیکسوں کی تعمیر پر کام شدومد سے جاری ہے اور یہ کام دن کے اُجھالے میں ہورہا ہے تاہم متعلقہ محکمہ جات کی خاموشی یا تعمیراتی سرگرمیاں جاری رکھنے والوںسے موٹی موٹی رقومات حاصل کرکے انہیںاس طرح کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ملتی ہے ۔ اگرکہیں پر کسی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تووہ غریب طبقہ سے وابستہ شخص ہوتا ہے جو نہ سرکاری ملازمین کو رشوت دینے کی سکت رکھتا ہے اورناہی اس کو کوئی رسوخ ہوتا ہے جبکہ دیگر جو رقم خرچ کرتے ہیںاور جن کواثر رسوخ ہوتا ہے ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لاجاتی ہے ۔ زرعی اراضی پر اس قدر بے تحاشہ تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کے نتیجے میں زرعی صنعت کو لازوال نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ وادی کشمیر زرعی طورپر کمزور ہوتا جارہا ہے اور باہر کی منڈیوں پر منحصر رہتا ہے۔اس سلسلے میں جانکار حلقوں کا مانناہے کہ اگر اس سلسلہ کو بند نہیں کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں پر اناج کا ایک دانہ بھی مقامی طور پر نہیں اُگے گا جبکہ میوہ صنعت بھی پوری طرح سے ختم ہوجائے گی کیوںکہ باغاتی زمین پر بھی اس طرح کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے اگر متعلقہ محکمہ جات اور موجودہ ایل جی انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکر عدالت احکامات کے تحت زرعی اراضی پر کسی بھی طر ح کی سرگرمی پر عائد پابندی کو زمینی سطح پر عملانے کیلئے اقدامات اُٹھائیں گے تو کافی حد تک کشمیر زرعی طور پر محفوظ رہ سکتا ہے ۔
Comments are closed.