وادی کشمیر کے شہر ودیہات میں بجلی کی بحرانی صورتحال سے لوگوں میں اضطراب

محکمہ پی ڈی ڈی کے مرتب شدہ شیڈول کا کیا ہوا ؟نظام میںبہتری کے بجائے بگاڑ کیوں ؟عوام کے سوالات حکام کے نام

رپورٹ
سرینگر /10نومبر / کے پی ایس ;وادی کشمیر کے شہر ودیہات میںبجلی کی بحرانی صورتحال سے لوگوں میں اضطرابی واضطراریکیفیت طاری ہے اورآجکل ہر سو گھپ اندھیرا چھایا رہتا ہے ۔جبکہ فیس کی وصولیابی کیلئے محکمہ کے افسران سرگرم عمل ہیں اور فیس کی ادائیگی نہ کرنے پر قانونی کاروائی انجام دینے کی دھمکیاں بھی ارسال کررہے ہیں اور جرمانہ عائد کرنے کی مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن بجلی کی فراہمی کیلئے جیسا کوئی قانون ہی نہیں ہے بلکہ یہ اندھا قانون کے زمرے میں معاملہ آتا ہے ۔اس سلسلے میں شہر ودیہات میں بجلی صارفین سڑکوں پر آکر محکمہ پی ڈی ڈی کی ناقص کارکردگی پر احتجاج کرتے رہتے ہیں جبکہ سرینگر کی پریس کالونی میںبھی روزانہ بنیادوں پربجلی کی عدم دستیابی کولیکر محکمہ ہذا کیخلاف احتجاجی مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔شہرو دیہات کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ شام کے بعد ان کے علاقوں میں اندھیرا چھایا رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پی ڈی ڈی نے باضابطہ طور میٹر شدہ اور غیر میٹر شدہ علاقوں میں بجلی سپلائی کیلئے شیڈول مرتب کیا ہے لیکن محکمہ ہذا کے متعلقہ افسران واہلکاران اس مرتب شدہ شیڈول کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑنے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موسم سرما شروع ہونے سے پہلے ہی بجلی کٹوتی کاسلسلہ جاری کیا اور مختلف بہانے جیسے لوڈ شیڈنگ ،اور لوڈنگ وغیر ہ بتاکر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ یہ سب کچھ جھوٹ اور فریب پر مبنی عمل ہے ۔انہوں نے گھنٹوں ہا بجلی میں بریک دینے کے بعد چند منٹوں کیلئے بجلی فراہم کی جاتی ہے جس سے صارفین میں انتشاری کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی فراہمی کیلئے صارفین فیس ادا کرتے ہیں اور جو صارفین فیس کی ادائیگی میں لیت ولعل سے کام لیتے ہیں تو محکمہ ہذا کے افسران وملازمین بلوں سمیت روزانہ ان کی دہلیز پر قرضداروں کی طرح سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے نمودارہوجاتے ہیںاور قانون کے شکنجے میں دھکیلنے کی وارننگ بھی دیتے رہتے ہیں لیکن اس وقت وہ اپنے طریقہ کارکو یکسر بھول جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فیس کی ادائیگی صارفین کیلئے امر لازم ہے لیکن بجلی کی معقول فراہمی محکمہ کے افسران کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ محکمہ کے افسران کی باربار یہ شکایت رہتی ہے کہ لوگ غیر قانونی طور بغیر اگریمنٹ کے چوری چھپے لائنیں نصب کرکے اضافی بجلی استعمال کرتے ہیں ۔لیکن اس جرم کی پاداش میں ملوث افراد کیخلاف کاروائی عمل میں لانا بھی محکمہ کے افسران کی ہی ذمہ داری ہے تاہم ان کے بقول افسران یا ملازمین ان صارفین کے ساتھ ساز باز کرکے ان کو بناء اگریمنٹ کے دوسری لائنوں سے بجلی کنکشن لیکر ہیٹر وبلور وغیرہ استعمال کرنے کی چھوٹ دیتے ہیں ۔ پھر اس جرم کی پاداش میں اپنے حق کے ساتھ بجلی استعمال کرنے والوں کو بھی ناکردہ گناہوں کی پاداش گھسیٹا جارہا ہے اور بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے جبکہ یہ بجلی محکمہ کے افسران کی نااہلی کا بین ثبوت ہے ۔اس سلسلے انہوں نے محکمہ پی ڈی ڈٰ کے اعلیٰ حکام اور گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طغیر کٹوتی کے مرتب شدہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے تاکہ سردیوں کے ان کٹھن ایام میں عام لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے اور زیر تعلیم بچوں جن کے امتحانات آجکل چل رہے کی تعلیم متاثر ہونے سے بچ جائے ۔

Comments are closed.