جنوبی کشمیر میں ٹریفک کے بڑھتے حادثات کے پیش نظر؛ کولگام میں محکمہ ٹریفک کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن

سرینگر/07اکتوبر: جنوبی کشمیر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمہ ٹریفک نے کمر کس لی ہے ۔ اس دوران آج محکمہ نے مختلف جگہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد ٹریکٹر، اور موٹر سائکل ضبط کرلئے ہیںجبکہ کئی افراد کے خلاف چالان بھی کاٹا گیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر میں بڑھتے ٹریفک حادثات کو کم کرنے کیلئے محکمہ ٹریفک نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروئی شروع کردی ہے ۔ اس دوران محکمہ کی جانب سے گزشتہ تین دنوں سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کردیا گیا ہے ۔ جس کے تحت نصف درج سے زائد ٹریکٹر ضبط، ایک درجن سے زائد موٹر سائکل بھی ضبط ، 92چالان بھی کئے گئے ۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی ٹریفک کولگام طارق احمد ٹاک اور ڈی ٹی آئی کولگام غلام حسن لون نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے سڑک کے مختلف حادثات رونماء ہوئے جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہے تاہم ٹریفک حادثات کیلئے کافی حد تک لوگ خود بھی ذمہ دار ہے کیوں کہ اگر لوگ ٹریفک قوانی پر عمل کریں گے تو حادثات کافی حد تک کم ہوسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ آج کل بائکوں ، سیکوٹیوں اور گاڑیوں میں کم عمر کے لڑکے سوار ہوتے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے موٹر سائکل، سکیوٹی یا گاڑیاں چلاتے ہیں جس کے باعث سڑک حادثات رونماء ہوتے ہیں ۔ ڈ ی ایس پی نے کہا کہ والدین ہی نوجوانوں کے حادثات کیلئے ذمہ دار ہے جو اپنے بچوں کو بائک اور گاڑیاںچلانے کی اجازت دیتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ آج کے لڑکے اس قدر تیز رفتاری سے گاڑی یا موٹر سائکل چلاتے ہیںکہ پھر وہ ان کی قابو سے باہر ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ موٹر سائکل چلاتے وقت وہ اپنے سروں پر ہیلمٹ بھی نہیں لگاتے اور ناہی ان لڑکوں کے پاس لائسنس ہوتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارا کام چالان یا جرمانہ عائد کرنا ہے لیکن گاڑی چلانے یا بائک چلانے سے روکنے کیلئے والدین ہی اپنے بچوں کو روک سکتے ہیں۔ اس دوران انہوںنے کہا کہ اسی طرح مسافرگاڑیوں میں لوگ بے ہنگم چڑھ جاتے ہیں۔ عام طور پر سومو گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ لوگ خود ہی چڑ ھ جاتے ہیں ۔ ڈرائیور کی سیٹ پر بھی ایک اور مسافر بیٹھتا ہے جو سب سے زیادہ خطر ناک معاملہ ہے کیوں کہ سومو گاڑی میں دس گھرانوں کے دس افراد ہوتے ہیں جو حادثے کی وجہ سے ازجان ہوسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ٹریفک اہلکار دور دراز علاقوں میں کس طرح پہنچ سکتے ہیں جہاں زیادہ اوور لوڈنگ ہوتی ہے اس کیلئے مسافروں کو ہی گاڑی کے ڈرائیور کو اوورلوڈنگ سے روک لینا چاہئے ۔ انہوںنے بتایا کہ آنے والے دنوں میں بھی اس طرح کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی انجام دی جائے گی ۔

Comments are closed.