سامبورہ جھڑپ میں لشکر کمانڈر کی ہلاکت بڑی کامیابی ، مہلوک کمانڈر بر ہان وانی سے قبل عسکری صفوں میں شامل ہوا تھا / ڈی جی پی دلباغ سنگھ

نوجوانوں کو عسکری صفوں میںشامل کرنے اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اعجاز ریشی کا کلیدی رول تھا

امشی پورہ شوپیان جھڑپ کی تحقیقات آخری مرحلے میں ،ایڈوکیٹ بابر قادری کی ہلاکت میں پولیس کو اہم سراغ ملے

سرینگر/28ستمبر: سامبورہ جھڑپ میں اعلیٰ لشکر کمانڈر اور اس کے ساتھی کی ہلاکت کو بڑی کامیابی سے تعبیر کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ نے کہا کہ جھڑپ میں مارا گیا لشکر کمانڈر کئی سالوں سے سرگرم تھا اور نوجوانوں کو عسکری صفوں میںشامل کرنے میں اس کا کلیدی رول تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لشکر کمانڈر اعجاز ریشی برہان وانی سے پہلے عسکری صفوں میں شامل ہو گیا تھا اور پانپور علاقے میںکئی سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی ہلاکت میں وہ ملوث تھا ۔ اسی دوران پولیس سربراہ نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال مقامی نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت میں بھی کافی کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ امشی پورہ شوپیان جھڑپ کی تحقیقات آخری مرحلے میں جبکہ ایڈوکیٹ بابر قادری کی ہلاکت میں پولیس کو کچھ اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ کیس جلد ہی حل کیا جائے گا ۔سی این آئی کے مطابق سامبورہ پانپور جھڑپ کے بعد ضلع پولیس لائنز اونتی پورہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ سامبور ہ پانپور جھڑپ میں سیکورٹی فورسز اور جموں کشمیر پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی کیونکہ جھڑپ میں طویل عرصہ سے سرگرم لشکر کمانڈر اور اس کا ساتھی ہلاک ہو گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن اتوار کی شام دیر گئے شروع ہوا اور اندھیرے کی وجہ سے تلاشی آپریشن روک دینا پڑاجبکہ جونہی سوموار کی صبح علاقے میں تلاشی آپریشن بحال کر دیا گیا تو جھڑپ کے مقام سے دو جنگجوؤںکی نعشیں برآمد ہوئی جن میں سے ایک اعجاز احمد ریشی ساکنہ سامبورہ پانپور جبکہ دوسرا سجاد صوفی ساکنہ پدگام پورہ اونتی پورہ تھا ۔ جموں کشمیر پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ اعجاز ریشی طویل عرصہ سے سرگرم عمل تھا اور اس وقت لشکر کمانڈر کے بطور کام کر رہا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ اعجاز ریشی سال 2015میں بالائے زمین کارکن کے بطور کام کر رہا تھا اور انہوںنے برہان وانی سے قبل عسکری صفوں میںشمولیت اختیار کر لی تھی ۔ دلباغ سنگھ نے کہا کہ اعجاز خطرک ناک جنگجو تھا جنہوں نے سیکورٹی فورسز پر کئی بار حملہ کیا اور ان میں سیکورٹی فورسز کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ای ڈی آئی پانپور میں سی آر پی ایف پارٹی پر حملے کے علاوہ اعجاز نے کدل بل پانپور میں بھی فوج کی پارٹی پر حملہ کیا تھا جن میں 8سی آر پی ایف اور تین فوجی اہلکار کی موت ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز ریشی کا مقامی نوجوانوں کو عسکری صفوں میں شامل کرنے کا کلیدی رول تھا اور انہوں نے درجنوں نوجوانوں جن میں خاص طور پر توصیف کھانڈے ،رفیق ڈار اور عادل احمد قابل ذکر ہے جو سارے لشکر سے وابستہ تھے جبکہ ساتھ ہی ان کے ساتھ جاں بحق ہوا جنگجو سجاد صوفی کو بھی انہوں نے ہی عسکری صفوں میں شامل کر دیا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ اعجاز کی ہلاکت فوج و فورسز کیلئے بڑی کامیابی ہے اور اس سے مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت میں کمی آئی گئی ۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ امشی پورہ شوپیان جھڑپ کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ ایڈوکیٹ بابر قادری کی ہلاکت میں پولیس کو کچھ اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ کیس جلد ہی حل کیا جائے گا ۔ میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ امشی پورہ شوپیان میں 18جولائی کو جھڑپ میں مارے گئے راجوری کے تینوں نوجوانوں کے ڈی این آئی نمونے ان کے والدین سے مل گئے ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی تحقیقات ایس ایس پی شوپیان کی زیر نگرانی میں ہو رہی ہے اور عنقریب اس سلسلے میں ساری تفاصیل منظر عام پر لائی جائےں گی۔انہوں نے کہا کہ فوج اور پولیس الگ الگ سے امشی پورہ انکاونٹر کی تحقیقات کررہے ہیں اور فوج کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پولیس کی تحقیقات ابھی جاری ہے اور اس معاملے میں ابھی مزید تفصیلات فراہم نہیںکر سکتے ہیں جب تک نہ پولیس کی تحقیقات مکمل ہو جائے گی ۔ ایڈوکیٹ بابر قادری کی ہلاکت کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ نے کہا کہ بابر قادری قتل معاملے میںپولیس کو اہم سراغ حاصل ہوئے ہیں۔انہوں نے ا±مید ظاہر کی کہ یہ کیس عنقریب حل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا”ہم نے پہلے ہی پولیس کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے“۔اور ا±مید ہے کہ اس کیس کو بہت جلد حل کیا جائے گا“۔

Comments are closed.