بی جے پی لیڈران کے خلاف کیس درج نہ کرنے پر عوامی نیشنل کانفرنس کو تشویش لاحق
سرینگر 21 ستمبر : جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے خلاف رام منشی باغ پولیس اسٹیشن میں 07/09/2020 کو درج ایف آئی آر کے حوالے سے قانون کی لازمی دفعات کے تحت کارروائی نہ کرنے پر متعلق پولیس افسران کے طرز عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی لیڈران کی جانب سے اشتعال بیان بازی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنا انتہائی افسوس ناک ہے بلکہ پولیس کی ٹال مٹول پالسی سے عوامی نیشنل کانفرنس میں تشویش لاحق ہوگئی ہے۔کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق عوامی نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے ریاستی صدر اور مرکزی عہدیداران کے خلاف 7 ستمبر کو پولیس تھانہ رام منشی باغ میں دفعہ 153 (الف) کے تحت ان کی اشتعال انگیز،نفرت انگیز تقاریر اور گپکار اعلامیہ کے شرکاء کو ملک مخالف،آزادی پسند اور پاکستانی نواز قرار دے کر ان کی سخت مخالفت ہی نہیں بلکہ شرکاء کو ڈرانے اور دھمکانے والے بیانات دیکر انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔جبکہ عوامی نیشنل کانفرنس نے اپنے اور گپکار اعلامیہ کے شرکاء کی دفا کیلئے ایک تحریری رپورٹ پولیس تھانے میں درج کردی ہے۔اے این سی کا مزید کہنا ہے کہ پولیس اسٹیشن کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بی جے پی لیڈران کے خلاف دفعہ U / S 154 (1) کے تحت کیس درج کریں۔عوامی نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ابھی تک پولیس نے بی جے پی لیڈران کےخلاف کوئی کیس درج نہیں کی ہے۔عوامی نیشنل کانفرنس نے اس ضمن میں اب سرینگر میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو سپیڈ پوسٹ کے ذریعے قانون کے تحت فراہم کردہ ایک رپورٹ روانہ کردی ہے تاکہ بی جے پی لیڈران کے خلاف کیس درج کیا جائے۔اے این سی کے مطابق انہیں توقع ہے کہ پولیس اس معاملے کی مناسب سے فوری کارروائی طور کاروائی عمل میں لائے گی جبکہ پارٹی اس بات کا یقین رکھتی ہے کہ پولیس اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے علاوہ مجرموں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری عمل میں لائے گی۔(کے این ٹی)
Comments are closed.