موجودہ حالات کی آڑ میں جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ ؛ متعلقہ محکمہ کی جانب سے برتی جارہی غفلت شعاری پر عوامی حلقے نالاں

سرینگر /20ستمبر: کووڈ 19 حالات کے دوران جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضہ جمانے والوں کی جانب سے سرگرمیاں جاری ہے اور وادی کے مختلف جنگلاتی علاقوں میں غیر قانونی طریقے سے اراضی ہڑپنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے تاہم انکے خلاف محکمہ جنگلات کی کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے جس پر عوامی حلقوںنے سخت تشویش کااظہار کیا ہے ۔وادی میں کووڈ 19کی وجہ سے پیدا شدہ حالات کی آڑ میں چند خود غرض عناصر قومی سرمایہ جنگلاتی اراضی پر ناجائز طریقے سے قبضہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلاتی اراضی ختم ہوتی جارہی ہے ۔وادی کشمیر کے مختلف جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم متعلقہ محکمہ کی جانب سے کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ شمالی کشمیر کے لیکر جنوبی کشمیر تک ہزاروں کنا ل اراضی پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ جمانے کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگلاتی اراضی پر قبضہ کرنے کے خلاف اگرچہ متعلقہ محکمہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں لیکن اراضی چھڑانے کے صرف چند گھنٹوں بعد ہی اس پر پھر سے قبضہ جمایا جاتا ہے ۔ ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ اب تک سینکڑوں کنال اراضی کو ملکیتی زمین میں منتقل کیا گیا ہے اور اس کام میں ان کی مدد متعلقہ سرکاری ملازمین ہی کررہے ہیں ۔ ادھر عوامی حلقوںنے جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے قومی اثاثہ ختم ہورہا ہے ۔ عوامی حلقوںنے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلاتی اراضی پر قبضہ جمانے والوں کے خلاف کارروائی کریں ۔ یاد رہے کہ وادی کشمیر میں گذشتہ تیس برسوں سے اب تک ہزاروں کنال اراضی پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ جمایا گیا ہے خاص کر اثر رسوخ رکھنے والے افراد نے اراضی کی بندر بانٹ کرکے ان پر ہٹیں، ہوٹل اور رہائشی تعمیرات کھڑا کی گئی ہے اور اب کووڈ 19کی مہاماری کے دور میں بھی قومی سرمایہ کی لوٹ کھسوٹ جاری ہے ۔

Comments are closed.