سوپور میں مبینہ طور پر زیر حراست نوجوان کی ہلاکت ؛ انکوائری آفیسر نے لواحقین اور دیگر لوگوں سے بیانات قلمبند کرانے کی ہدایت دی

سرینگر /20ستمبر: شمالی قصبہ سوپور میں مبینہ طور پر نوجوان کی زیر حراست ہلاکت کی تحقیقات میں انکوائری آفیسر نے لواحقین اور دیگر لوگوں کو اپنے بیانات قلم بند کرنے کو کہا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق صدیق کالونی سوپور کے نوجوان عرفان احمد ڈار ولد محمد اکبر ڈار کی مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد معاملے کی تحقیقات ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ کو سونپ دی گئی جنہوں نے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کیلئے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ محمد احسن کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کیا ۔ اس معاملے میں مقررہ تحقیقاتی آفیسر نے لواحقین اور دیگر لوگوں جن کو اس واقعہ میں بارے میں کوئی علمیت ہو کو کہا ہے کہ وہ آج سے اپنے بیانات قلمبند کرائیں ۔ انکوائری آفیسر کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری کر دیا گیا جس میں کہا گیا کہ عرفان احمد کے لواحقین کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں جن کو واقعہ کے بارے میںکچھ بھی معلومیت ہو سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیانات تحقیقاتی آفیسر کے سامنے قلم بند کرائیں ۔اس ضمن میں وقت بھی مقرر کیا گیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بیانات تحریری یا زبانی 20اور 21ستمبر کو ایڈیشنل ترقیاتی کمشنر سوپور کے سامنے صبح دس سے دن کے ایک بجے تک جبکہ 22سے 26ستمبر تک اے ڈی سی آفس بارہمولہ میں صبح دس سے چار بجے تک ریکارڈ کرائیں۔ جبکہ انکوائری آفیسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 20دنوں کے اندر اندر واقعہ کی مکمل رپورٹ پیش کریں۔

Comments are closed.