ہمارے ارادوں کو لیکر افواہ نہ پھیلائیںراجناتھ سنگھ کی چین کو وارننگ

لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے جس کی ایک انچ بھی زمین کسی کو نہیں دیں گے /وزیر دفاع

سرینگر/05ستمبر: وزیر دفاع راجناتھ سنگ نے چین پر واضح کردیا کہ چین کی جارحیت ناقابل قبول ہے اورلداخ میں چینی فوج نے جتنا بھی رقبہ زیر قبضہ لیا ہے اس کو خالی کرنا ہی ہوگا۔ مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر کشیدگی کی صورت حال کے بعد دونوں رہنماوں کی یہ پہلی آمنے سامنے کی میٹنگ تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے 4 مہینوں سے دونوں ملکوں کی فوج ایل اے سی پر آمنے سامنے ہیں۔ ایسے میں اس میٹنگ میں کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق روس کی راجدھانی ماسکو میں شنگھائی معاون تنظیم (SCO) میٹنگ میں حصہ لینے گئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھنے اپنے چینی ہم منصب ویئی پھینگھے سے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ مشرقی لداخ میں کشیدگی کی واحد وجہ چینی فوجیوں کا جارحانہ رویہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے چین کو وراننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ہندوستان اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔وزیر دفاع کے دفتر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے چین کے وزیر دفاع ویئی پھینگھے سے بات چیت کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ مشرقی لداخ میں جس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں، وہ چینی فوجیوں کے جارحانہ برتاو اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے فوجیوں نے سرحد پر بنی کو بدلنے کی کوشش کی۔ راجناتھ سنگھ نے سرحد پر چین کی طرف سے بڑی تعداد میں فوجیوں کو بھیجنے کا موضوع بھی اٹھایا۔شنگھائی معاون تنظیم (SCO) کی میٹنگ کے الگ ہندوستان اور ین کے دفاعی وزرا کے درمیان ہوئی میٹنگ میں کہا گیا کہ ہندوستان، بارڈر مینجمنٹ کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے اور نبھاتا رہے گا۔ ہندوستان اور ہندوستانی فوج اپنی خود مختاری اور سالمیت سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نیکہا کہ بارڈر مینجمنٹ کے تئیں ہندوستانی فوجیوں کا رویہ ہمیشہ سے بہت ذمہ دارانہ رہا ہے، لیکن ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے تئیں ہمارے عہد کو لے کر کوئی خدشہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہندستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چینی وزیر دفاع ویئی فنگہی (Wei Fenghe) کے درمیان جمعہ کو ماسکو میں ملاقات ہوئی۔ تقریبا 2 گھنٹے 20 منٹ تک چلی اس میٹنگ کو بیحد اہم مانا جا رہا ہے۔ دراصل، مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر کشیدگی کی صورت حال کے بعد دونوں رہنماوں کی یہ پہلی آمنے سامنے کی میٹنگ تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے 4 مہینوں سے دونوں ملکوں کی فوج ایل اے سی پر آمنے سامنے ہیں۔ ایسے میں اس میٹنگ میں کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنما شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے لئے روس پہنچے ہیں۔ اس سے پہلے ہندستان کے خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے جمعہ کو کہا تھا کہ سرحد پر حالات غیرمعمولی ہیں۔ذرائع کے مطابق، بات چیت کے دوران راج ناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں موجودہ صورت حال کو بنائے رکھنے کی بات کہی۔ اس کے علاوہ انہوں نے فوجیوں کو تیزی سے ہٹانے کے مسئلہ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے صاف کہا کہ امن کے چین کو فوج پیچھے ہٹانی ہی ہو گی۔دراصل، پچھلے ہفتے پینگونگ تسو جھیل میں ہوئی تکرار کے بعد تنازعہ اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ہندستانی فوج نے پیپلز لبریشن آرمی کو پیچھے ڈھکیل کر اسٹریٹجک اعتبار سے ایک اہم پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایسے میں ہندستان کے جوابی حملے سے چین بوکھلایا ہوا ہے۔ ادھر چین پینگونگ تسو شمالی گھاٹ اور گوگرا پوسٹ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ہندستانی نمائندہ وفد میں سکریٹری دفاع اجے کمار اور روس میں ہندستان کے سفیر ڈی بی وینکٹیش ورما بھی تھے۔ اس سے پہلے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایس سی او میں اپنے خطاب میں کہا کہ علاقے میں امن اور تحفظ کے لئے اعتماد کا ماحول، غیر جارحیت، بین اقوامی ضابطوں کے تئیں احترام اور اختلافات کا پر امن حل ضروری ہے۔

Comments are closed.