کپواڑہ کے ورنو لولاب جنگلات میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی جاری
گریز میں کشن گنگا دریا کے قریب دو حزب جنگجوئوں کی نعشیں اسلحہ و گولہ بارود سمیت بر آمد
سرینگر/05ستمبر: شمالی کشمیر کے ورنو لولاب جنگلات میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی جاری ہے ۔ ادھر فوج وفورسز نے گریز میں ایک نالہ سے دو حزب جنگجوئوںکی نعشیں بر آمد کر لی ہے جبکہ ان کے قبضے سے ہتھیار بھی بر آمد کیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ورنو لولاب کے دانا بہک جنگلات میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی جا ری ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگلات میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز اور ایس او جی نے جنگلات میں تلاشی آپریشن شروع کیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تلاشی آپریشن کے دوران چھپے جنگجوئوں اور فورسز اہلکاروں کا آمنا سامنا اور طرفین میں گولیوں کا تبادلہ ہوا۔فورسز نے علاقے کا محاصرہ سخت کیا ہے جبکہ فوج و فورسز کی اضافی کمک علاقے کی طرف روانہ کی گئی ہے اور پورے جنگلات کو سیل کر دیا گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج و فورسز کو خدشہ ہے کہ جنگلات میں دو سے تین جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جن کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلا ع ملنے کے بعد آپریشن عمل میں لایا گیا جس دوران جنگجوئوں اور فوج کے مابین آمنا سامنا ہوا اور علاقے میں آپریشن جاری ہے ۔ ادھر سرحدی علاقہ گریز کے کشن گنگا نالے سے دو حزب جنگجوئوںکی نعشیں بر آمد کر لی گئی ہے ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر کے مطابق گریز کے تلیل علاقے میں فوج و فورسز اور پولیس نے مشتر کہ طور پر دو نعشیں اسلحہ و گولہ بارود کے ساتھ بر آمد کر لی ۔ انہوں نے بتایا کہ نعشوں سے جو دستاویزات بر آمد ہوئے ان میں سے ایک کا نام نثار احمد راتھر ساکنہ ڈاڈ سرہ ترال اور دوسرے کی شناخت سمیر احمد ڈار ساکنہ ڈوگری پورہ اونتی پورہ کے بطور ہوئی ۔ پولیس آفیسر کے مطابق دونوں کی موت دریا پار کرنے کے دوران ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا تعلق عسکری تنظیم حزب سے ہیں اور نثار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ فروری 2018سے لاپتہ تھا جبکہ دوسرا 2019 ماہ مارچ سے لاپتہ تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ معاملے کی نسبت کیس درج کر لیا گیا ہے جبکہ نعشوں کو ضروری لوازمات کی ادائیگی کیلئے پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے ۔
Comments are closed.