سرینگر /5ستمبر / کے پی ایس :شمالی کشمیر کے علاقہ قاضی آباد میں کاہچرائی پر ناجائز قبضہ کرنے کاسلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے جس سے علاقہ کے حساس لوگوں میں تشویش لہردوڑ رہی ہے ۔ اس سلسلے میں علاقہ کے ذی عزت شہریوں نے کشمیر پریس سروس کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بالائے علاقہ قاضی آباد میں رینن سے لیکر ہارویٹ تک کاہچرائی کو آبا د کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ کے رینن صفلپورہ،شیخہ نار،کرالپورہ،کونیل اور ہارویٹ کے بارسوخ زمینداروں نے کاہچراہی رقبہ پر ناجائز قبضہ کرنے کے علاوہ محکمہ مال میں تعینات متعلقہ پٹواریوں اور اعلی’ افسران سے ملی بھگت کرکے جگہ جگہ بر لب سڑک کاہچرائی کے وسیع رقبے پر (جے سی بی) لگاکر نا جائیز طور گذشتہ ایک سال سے ریت نکالنے کا کام شروع کیا ہے۔جس سے مذکورہ علاقہ کی شان اور عظمت متاثر ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کاہچرائی قومی سرمایہ ہوتا ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے لیکن یہاں کے محافظین ہی خود غرض لوگوں کے ساتھ ساز باز کرکے کاہچرائی پر قبضہ جماتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ علاقہ کے لوگوں نے مفاد عامہ کے خاطراس سنجیدہ نوعیت کے معالے کے حوالے سے بار بارمتعلقہ نائب تحصیلدارکو مطلع کیا لیکن اس کے باوجود بھی کاہچرائی پر ناجائز قبضہ کرنے والے افراد یا غیرقانونی طور جے سی بی سے ریت اٹھانے والوں کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔انہوں نے کہا کہ موصوف کا گزر روز اسی راستے سے ہوتا رہتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایک طرف حکومت وقت رشوت ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہیلیکن دوسری طرف نا جائز کاموں میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کاہچرائی رقبہ کسی خاص شخص کا میراث نہیں بلکہقومی اثاثہہے۔لیکن سمجھ نہیں آتا ہے کہمتعلقہ افسران کیوں خاموش ہیں جبکہ علاقے سے ہر روز ہزاروں صوپے کی ناجایز طور ریت نکالی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان پہاڑیوں سے ریت نکالنے سے اول تو سڑک برباد اور ناقابلآمد ورفت بنے گی دوم اوپر کے ٹیلے گرکر اس کے دامن میں آبادی کے مکانوں کو بھی موسم سرما میں تہس نہس کریں گے۔اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاہچرائی پرناجائز قبضہ کرنے والوں اور غیر قانونی طور ریت نکالنے والوں کیخلاف کاروائی عمل لائی جائے تاکہ ہمارا قومی سرمایہ ضائع نہ ہوجائے ۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.